میئر حیدرآباد کا بارشوں کے حوالے سے انتظامی امور کا جائزہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)میئر حیدرآباد کاشف علی شورو کی زیر صدارت میئر سیکریٹریٹ سوک سینٹر میں مون سون کی متوقع بارشوں کے سیکنڈ اسپیل اور اربن فلڈنگ کے حوالے شہر میں کئے جانے والے انتظامات کے سلسلے میں اجلاس ہوا، اجلاس میں میونسپل کمشنر ظہور احمد لکھن، ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کے چیئرمینز عبدالغفور درس، مصطفی بلال، منٹھار جتوئی، عمیر مولابخش چانڈیو حیدرآباد واٹراینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر طفیل احمد ابڑو، حیدرآباد واٹراینڈ سیوریج کارپوریشن کے ایگزیکٹیو انجینئرز ذیشان ملک، مرزا محمد علی بیگ، اصغر علی خواجہ، ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز،اور بلدیہ اعلی کے افسران شریک ہوئے، اجلاس میں دوران بارش عوام کو بروقت ریلیف دینے اور مین شاہراہوں سمیت نشیبی علاقوں سے برسات کے پانی کی فوری نکاسی کیلئے تمام پمپنگ اسٹیشن کی کارکردگی، ڈیز ل پمپس اور دیگر مشینریز کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔