پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کے ماہرین کی خدمات کے اعتراف کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خدمات انجام دینے والے ماہرین کی حوصلہ افزائی کےلیے صدارتی ایوارڈز اور قومی اعزازات دینے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں نامزدگیوں پر مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور تعلیم کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ماہرین کے نام زیر غور لائے گئے۔ خالد حسین مگسی نے کہا کہ پاکستان کے باصلاحیت سائنسدان اور ماہرین عالمی معیار پر پورا اترتے ہیں اور حکومت ان کی حوصلہ افزائی کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی باصلاحیت پاکستانیوں کو نمایاں کرنے کے لیے شفاف اور میرٹ پر مبنی عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ سائنس اور تحقیق کے میدان میں نوجوان نسل کی شمولیت وقت کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان تحقیق اور جدت کے شعبے میں آگے بڑھ سکے۔
خالد حسین مگسی نے بتایا کہ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے سائنسدانوں اور ماہرین کو یومِ آزادی کے موقع پر اعزازات سے نوازا جائے گا، جبکہ پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت ماہرین کی خدمات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدارتی ایوارڈز کے ذریعے سائنسی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا، جو نوجوانوں کو تحقیق کے شعبے کی طرف راغب کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں خدمات انجام دینے والوں کو عزت دینا اور ان کی کامیابیوں کو تسلیم کرنا قومی ترقی کے لیے اہم ہے، اور اس سلسلے میں حکومت اپنی ذمے داری نبھاتی رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کہا کہ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ