تنخواہ کے معاملے پر خواجہ آصف اور اسپیکر قومی اسمبلی آمنے سامنے، وزیراعظم کو خط لکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
تنخواہ کے معاملے پر خواجہ آصف اور اسپیکر قومی اسمبلی آمنے سامنے، وزیراعظم کو خط لکھ دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 3 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے درمیان تنخواہوں کے معاملے پر اختلاف شدت اختیار کر گیا۔ ذرائع کے مطابق خواجہ آصف کی تنقید کے بعد ایاز صادق نے وزیراعظم شہباز شریف کو باقاعدہ خط لکھ دیا۔
ایاز صادق نے اپنے خط میں کہا ہے کہ میرا تنخواہ کے معاملے سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کوئی دلچسپی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے واضح کیا کہ تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کا اختیار ہے، میں نے کبھی اس حوالے سے کوئی سفارش یا مطالبہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے حالیہ دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی تنخواہ 21 لاکھ روپے کرلی اور پھر ذمہ داری کسی اور پر ڈال رہے ہیں کہ فلاں نے بڑھائی، سیاست دانوں کو شاہانہ طرز زندگی اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین ترقی پذیر ممالک کو فعال طور پر مالی مدد فراہم کر رہا ہے، چینی وزیر خزانہ سوات واقعے میں مختلف محکموں کی کوتاہی سامنے آئی ہے: چیئرمین انسپیکشن ٹیم کا عدالت میں اعتراف ملکی سیاسی میدان میں نئی انٹری؛ الیکشن کمیشن نے نئی جماعت رجسٹر کرلی،سربراہ کون؟ ایران اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے پیچھے بھی ’وردی‘ ہے،محسن نقوی سلامتی کونسل میں پاکستان کی سربراہی؛ بھارت کو بدترین سفارتی شکست امریکی حملوں سے ایران کا ایٹمی پروگرام 2 سال پیچھے چلا گیا: پینٹاگون پاکستان سٹاک مارکیٹ میں انڈیکس پہلی بار 1 لاکھ 31 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسپیکر قومی اسمبلی خواجہ ا صف کے معاملے
پڑھیں:
مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کی جائے اور اس پر مؤثر و لازمی عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کمزور گھریلو معاشی حالات کے پیش نظر کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض سالانہ اعلان کے بجائے ایک مؤثر سماجی و معاشی پالیسی کے طور پر اپنانا ضروری ہے۔
مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے قبل حکومت کو بھجوائے گئے اپنے پالیسی نوٹ میں پائیڈ نے کہا ہے کہ مسلسل مہنگائی، خوراک اور توانائی کے شعبوں میں قیمتوں کے جھٹکوں، غیر رسمی روزگار کے پھیلاؤ اور گھریلو معاشی مشکلات کے ماحول میں کم از کم اجرت کی پالیسی کو ایک قابلِ اعتماد سماجی و معاشی آلے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جو ایک طرف مزدوروں کا تحفظ کرے اور دوسری جانب معاشی طور پر قابلِ عمل بھی ہو۔
یہ بھی پڑھیے بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
ادارے نے سفارش کی کہ کم از کم اجرت کے سالانہ اعلانات کو محض علامتی یا صوابدیدی فیصلوں کے بجائے ایک شفاف اور قواعد و ضوابط پر مبنی نظام کے تحت طے کیا جائے، جس کی بنیاد مستند سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے اصولوں پر ہو۔
پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ طریقہ کار کسی ایک معاشی اشاریے یا من مانے اضافے پر انحصار کرنے کے بجائے قوتِ خرید کے تحفظ، مزدور اور اس کے خاندان کی بنیادی ضروریات، لیبر مارکیٹ کی استعداد، پیداواری صلاحیت میں جزوی شراکت اور صوبائی سطح پر عملدرآمد کی حقیقتوں کو مدنظر رکھتا ہے۔
پائیڈ کے مطابق اس اصلاحاتی فریم ورک کے چار بنیادی ستون ہیں: شواہد پر مبنی اور شفاف اجرت کا تعین، صوبائی سطح پر مناسب ایڈجسٹمنٹ، مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کا نظام، اور اجرتوں کے تعین و نفاذ سے متعلق سالانہ رپورٹنگ۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت نے کم از کم اجرت کا روایتی اعلان بھی نہیں کیا تھا۔ اس وقت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ کاروباری ادارے پچھلے سال مقرر کی گئی کم از کم اجرت ادا کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔
پائیڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان بیورو آف شماریات اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سرکاری اعداد و شمار پر مجوزہ فریم ورک کا اطلاق کرنے سے مالی سال 2026-27 کے لیے 45 ہزار روپے ماہانہ کی قومی کم از کم اجرت کا حوالہ جاتی معیار سامنے آتا ہے، جو موجودہ 40 ہزار روپے کی مقررہ اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہے۔
پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ کم از کم اجرت کی پالیسی محض سالانہ رسمی مشق نہیں رہ سکتی جو معاشی حقائق اور مزدوروں کی فلاح سے کٹی ہوئی ہو۔ ان کے بقول پاکستان کو ایک ایسا قابلِ اعتماد اجرتی نظام درکار ہے جو مزدوروں کے تحفظ، پیداواری صلاحیت، کاروباری پائیداری اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی اور سماجی استحکام کا خواہاں ملک محنت کش طبقے کی غربت، اجرتوں میں غیر یقینی صورتحال اور لیبر مارکیٹ کے منتشر نظام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پائیدار معاشی اصلاحات کا مقصد کارکنوں کو وقار، پیش بینی اور معاشی تحفظ فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔
مجوزہ ’قومی حوالہ جاتی معیار اور صوبائی ایڈجسٹمنٹ‘ ماڈل کے تحت صوبوں کو یہ آئینی اختیار حاصل رہے گا کہ وہ مقامی معاشی حالات کے مطابق قومی کم از کم معیار کے برابر یا اس سے زیادہ اجرت مقرر کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟
پائیڈ کی تجویز کے مطابق پنجاب میں کم از کم اجرت 45 ہزار روپے، جبکہ شہری اخراجات اور رسمی شعبے میں روزگار کے زیادہ ارتکاز کی وجہ سے سندھ اور خیبر پختونخوا میں 46 ہزار روپے مقرر کی جا سکتی ہے۔ بلوچستان کے لیے جغرافیائی مسائل اور منڈیوں تک رسائی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے 45 ہزار 500 روپے کی تجویز دی گئی ہے۔
مطالعے کے شریک مصنف اور پائیڈ میں معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم نعیم نواز نے کہا کہ مؤثر کم از کم اجرت وہی ہو سکتی ہے جو مزدور حقیقتاً حاصل کر سکیں اور صوبے مؤثر انداز میں نافذ کر سکیں۔
ان کے مطابق صرف افراطِ زر یا غربت کی لکیر کو بنیاد بنانے کے بجائے ایک جامع اور متوازن طریقہ کار اپنانا ضروری ہے، جو کاروباری استطاعت، عملدرآمد کی صلاحیت اور اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھے کہ پاکستان میں تقریباً 80 فیصد روزگار اب بھی غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ