وفاقی حکومت نے 2روزہ عام تعطیل کا اعلان کردیا،نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
وفاقی حکومت نے 2روزہ عام تعطیل کا اعلان کردیا،نوٹیفکیشن جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 3 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی حکومت نے محرم الحرام(عاشورہ)کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کردیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
کابینہ ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری تعطیلات کے حوالے 23 دسمبر 2024 کو جاری کابینہ ڈویژن کے سرکلر کے تحت عاشورہ کی عام تعطیلات کا اعلان کردیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق 5 اور 6 جولائی (9اور 10محرم)کو عاشورہ کے موقع پر وفاقی سطح پر سرکاری تعطیلات ہوں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسٹارلنک کو پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئے شدید مشکلات، عارضی رجسٹریشن بھی ختم اسٹارلنک کو پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئے شدید مشکلات، عارضی رجسٹریشن بھی ختم چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس، اسلام آباد کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے بیوٹیفکیشن پلان پر عملدرآمدو دیگر اقدامات... اسلام آباد ہائیکورٹ میں جولائی اور اگست میں تعطیلات کا شیڈول جاری وزیراعظم شہبازشریف 2 روزہ سرکاری دورے پر آذربائیجان پہنچ گئے اسپیکر کی تنخواہ میں اضافے سے متعلق ترجمان قومی اسمبلی کی وضاحت سامنے آ گئی وفاقی محتسب نے ای او بی آ ئی سے نان رجسٹرڈ کمپنیوں کی تفصیلا ت ما نگ لیں
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کا اعلان کردیا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔