کراچی: اورنگی ٹاؤن مومن آباد میں 3 افراد کی ہلاکت کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن مومن آباد میں 3 افراد کی ہلاکت کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں گھر کے باہر سڑک پر جمع افراد کو دیکھا جاسکتا ہے، بات چیت کے دوران اچانک ایک شخص فائرنگ کرتا ہے جس سے بھگدڑ مچ جاتی ہے۔
فائرنگ سے دو افراد موقع پر ہی گرجاتے ہیں جبکہ عقب میں ایک اور شخص کو پکڑ کر لایا جاتا ہے، بیچ سڑک پر اس شخص کو بھی گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔
ملزمان نے پورا برسٹ خالی کیا، پھر مرنے والے کا بھی پستول نکال لیا۔ اس پستول سے بھی فائر کیے، پستول کے بٹ بھی مارے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعہ سسر اور داماد کے درمیان جھگڑے کا نتیجہ تھا۔ پولیس حکام کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، دیگر کی تلاش جاری ہے۔
واقعے کا مقدمہ مقتول کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں مقتول کے داماد اور دیگر رشتے داروں کو نامزد کیا گیا ہے۔
واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اورنگی ٹاؤن مومن آباد میں پیش آیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔