گلگت بلتستان میں 9 اور 10 محرم الحرام کو عام تعطیل کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
دریں اثناء گلگت بلتستان میں محرم الحرام کے دوران مجالس، جلوس اور یوم عاشور کے موقع پر جلوسوں کی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ گلگت میں ایک درجن سے زائد امام بارگاہوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان میں 9 اور 10 محرم الحرام کو عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا۔ محکمہ سروسز کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی حکومت نے نویں محرم اور یوم عاشور کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران تمام سرکاری دفاتر بند رہیں گے۔ دریں اثناء گلگت بلتستان میں محرم الحرام کے دوران مجالس، جلوس اور یوم عاشور کے موقع پر جلوسوں کی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ گلگت میں ایک درجن سے زائد امام بارگاہوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ ادھر سکردو میں بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ بلتستان کے دور دراز علاقوں میں موجود امام بارگاہوں پر بھی پہلی مرتبہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان میں محرم الحرام
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔