کراچی:

شہر قائد میں پانچ منزلہ عمارت زمیں بوس ہوگئی، جس کے ملبے تلے کئی افراد دب گئے جب کہ متصل عمارتیں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

لیاری کے علاقے بغدادی میں واقع النوید ہوٹل کے قریب 5 منزلہ رہائشی عمارت اچانک زمیں  بوس ہو گئی، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی جس کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ اب تک ملبے سے 3 لاشیں اور 5 افراد کو زخمی حالت میں نکالا گیا ہے، جن میں 2 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

گرنے والی عمارت میں 6 خاندان رہائش پذیر تھے جب کہ مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ تنگ گلیوں اور راستوں کی بندش کے باعث ہیوی مشینری کو جائے وقوع تک پہنچانے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ ملبے سے دبے افراد کو نکالنے کے لیے مقامی لوگ بھی اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں شریک ہیں۔

گرنے والی عمارت کے ساتھ جڑی 2 منزلہ عمارت کو بھی خالی کرالیا گیا ہے جب کہ دیگر ملحقہ عمارتوں کو بھی ممکنہ نقصان کے پیش نظر خطرے میں تصور کیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا سول اسپتال کراچی کے ٹراما سینٹر میں لائی گئی ایک 40 سالہ شدید زخمی خاتون کے جسم پر کئی فریکچر اور زخم پائے گئے ہیں۔

پولیس، رینجرز اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہیں جب کہ ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو بھی جائے حادثہ پر موجود ہیں۔ سول اسپتال انتظامیہ کے مطابق مجموعی طور پر 6 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریسکیو اداروں کو فوری، مربوط اور مؤثر امدادی کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر ملبے تلے دبے افراد کو بحفاظت نکالا جائے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔ گورنر نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپروائی ناقابلِ برداشت ہوگی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فوری رپورٹ پیش کی جائے اور ریسکیو ٹیمیں متاثرین کو ملبے سے نکالنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔ وزیراعلیٰ نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملبے تلے

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ