وادی نیلم میں گاڑی دریامیں جا گری،5 خواتین سمیت 6 جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
نیلم(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔04جولائی 2025)وادی نیلم میں گاڑی دریامیں جا گری،حادثے میں خواتین سمیت6افراد جاں بحق ہوگئے،واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار اور پولیس کی بھاری کی نفری موقع پر پہنچ گئی،گاڑی میں سوار خاندان کا تعلق مظفرآباد سے تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وادی نیلم میں کریم آباد کے مقام پرگاڑی کو موڑ کاٹتے ہوئے حادثہ پیش آیاجس کے نتیجے میں 5خواتین سمیت6جاں بحق ہوگئے۔
ڈی ڈی ایم اے نیلم کے مطابق دریائے نیلم میں چلہانہ کے مقام پر گاڑی گہری کھائی میں جاگری۔حادثے میں چھ افراد جاں بحق ہوئے تمام چھ افراد کی لاشوں کو نکال لیا گیا ہے۔ڈی ڈی ایم اے نیلم کا کہنا ہے حادثے میں ایک بچہ لاپتہ ہے جس کی تلاش کیلئے پولیس اور ریسکیو ٹیمیں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ امدادی کارروائیوں میں دشوار گزار راستے اور اندھیرے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی گلگت میں باراتیوں کی گاڑی دریا میں جا گری تھی جس کے نتیجے میں دلہا سمیت 6 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ریسکیو حکام کے مطابق چھلت نگر میں افسوسناک حادثہ پیش آیاتھا جہاں باراتیوں کی گاڑی دریا میں گرنے سے دلہا سمیت ایک ہی خاندان کے چھ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ دلہا باراتیوں کے ساتھ دلہن لینے جا رہا تھا۔موڑ کاٹتے ہوئے گاڑی دریا برد ہوگئی۔حکام کا کہنا تھا کہ تین افراد کی نعشیں نکالی جا چکی تھیں۔گاڑی ایک خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے بے قابو ہو کر گہرے دریا میں جا گری تھی۔ ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ دیگر افراد کی تلاش جاری تھی۔ دریا کی تیز لہروں کے باعث تلاش میں مشکلات درپیش تھیں۔مقامی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا جبکہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ شدید پریشانی کا شکار ہوگئے تھے۔حادثے کا شکار تمام افراد ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جن میں دلہا بھی شامل تھا۔حادثے نے علاقے میں فضائے سوگ طاری کر دی تھی اور مقامی افراد بڑی تعداد میں جائے وقوعہ پر جمع ہو کر ریسکیو اہلکاروں کی مددکی تھی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گاڑی دریا نیلم میں افراد کی
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز