کورونا ویکسین اور ہارٹ اٹیک، ماہر امراض قلب نے حقیقت واضح کردی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
کورونا کی عالمی وباء کے بعد دل کے دورے یعنی ہارٹ اٹیک کے کیسز میں اضافے کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ کئی معروف شخصیات سمیت عام شہری بھی اچانک دل کا دورہ پڑنے سے جان کی بازی ہارتے رہے ہیں۔
ان اموات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث شدت اختیار کر گئی کہ آیا ان واقعات کی وجہ کووڈ ویکسین ہے؟ یہ سوال سیاسی و عوامی حلقوں میں بھی زیربحث آنے لگا۔
تاہم طبی ماہرین نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اموات کا تعلق کووڈ ویکسین سے جوڑنا درست نہیں۔
کووڈ ویکسین لینے سے اچانک موت کا خطرہ کم ہوتا ہے، نہ کہ بڑھتا ہے۔ اگر آپ نے ویکسین کی دونوں خوراکیں لی ہیں تو آپ کا دل پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔ کووڈ ویکسین کے کئی طبی فوائد ہیں، اس لیے لوگوں کو افواہوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جن افراد نے ویکسین کی دونوں خوراکیں لی ہیں، ان میں اچانک موت کا خطرہ 49 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ 2019 میں شروع ہونے والی کورونا وباء نے دنیا بھر میں تباہی مچائی، اور بھارت میں بھی لاکھوں لوگ اس مہلک وائرس کا شکار ہوئے۔ بچاؤ کے طور پر حکومت نے کووڈ ویکسین کی دو خوراکیں لازمی قرار دی تھیں۔ تاہم اس کے بعد وقتاً فوقتاً ایسی افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ ویکسین لینے کے بعد دل کے دورے کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اموات کی ممکنہ وجوہات میں غیر متوازن طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ، ناقص خوراک اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی شامل ہو سکتی ہیں، نہ کہ کووڈ ویکسین۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔