لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی ڈپٹی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ کے جنگ میں چین کی پاکستان کی مدد سے متعلق بیان پر اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ پاکستان نے اپنی طاقت پر انحصار کرتے ہوئے لڑی ہے۔ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں غریدہ فاروقی نے کہا کہ  بھارتی ڈپٹی آرمی چیف نے دعویٰ کیا کہ چین نے پاکستان کو انٹیلیجنس فراہم کی۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ریکارڈ پر سب کچھ موجود ہے کہ پاکستان نے اپنی طاقت پر انحصار کرتے ہوئے لڑائی لڑی اور بھارتی جنگی طیاروں کی نقل و حرکت سے مکمل طور پر آگاہ تھا، جب سے انہوں نے اپنے ایئر بیسز پر انجن آن کیے۔اینکر پرسن کا کہنا تھا کہ  بھارت کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان نے دہائیوں سے صرف بھارت سے لڑنے پر توجہ مرکوز رکھی اور خود کو اسی کے لیے تیار کیا ہے، انہیں اپنے وجودی اور ازلی دشمن کو جاننے کے لیے کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔

صدر آصف علی زرداری کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ابتدائی کام شروع ہو چکا ہے، صحافی اعزاز سید کا دعویٰ

Indian Deputy Army Chief Lt.

Gen. Rahul Singh Admits Defeat in Operation Sindoor ‼️‼️‼️

An analysis

1. Today on 4 July, in yet another failed attempt of series of its defeat cover ups, Indian Deputy Army Chief LTG Rahul Singh while giving twisted statement on so called…

— Gharidah Farooqi (T.I.) (@GFarooqi) July 4, 2025

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پاکستان نے

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی

چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔

وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.

Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار