جیمی اسمتھ نے بھارت کے خلاف تیز ترین سنچری جڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
لندن(نیوز ڈیسک)انگلینڈ کے وکٹ کیپر بیٹر جیمی اسمتھ نے بھارت کے خلاف تیسری تیز ترین سنچری جڑ دی۔
انگلش بیٹر جیمی اسمتھ نے بھارت اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن ریکارڈ بک میں اپنا نام درج کرلیا جب کہ ہیری بروک نے بھی تاریخ رقم کردی۔
اسمتھ نے ٹیسٹ کرکٹ میں انگلینڈ کی جانب سے تیسری تیز ترین ٹیسٹ سنچری بنائی۔
جیمی اسمتھ نے اس وقت بیٹنگ کو سہارا دیا جب انگلینڈ کی 5 وکٹیں 84 رنز پر گرچکی تھی اور ان پر فالو آن کے بادل منڈلانے لگے تھے۔
انہوں نے 80 گیندوں پر 17 چوکوں کے ساتھ ناقابل شکست 102 رنز بنائے۔
ہیری بروک نے 2022 میں راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کے خلاف 80 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جونی بیرسٹو بھی 77 گیندوں پر تیز ترین سنچری اسکور کرچکے ہیں۔
جیمی اسمتھ کے ساتھ ہیری بروک بھی بھارتی بولرز کو تگنی کا ناچ نچاتے رہے، بروک تیز کرکٹ میں 2500 رنز بنانے والے بیٹر بن گئے ہیں، انہوں نے 2832 گیندوں میں یہ سنگ میل عبور کیا۔
26 سالہ ہیری بروک کی صرف 27ویں ٹیسٹ میچ میں یہ نویں سنچری ہے، وہ 44 اننگز میں یہ سنگ میل عبور کرتے ہوئے انگلینڈ کے لیے 9 سنچریاں بنانے والے تیسرے تیز ترین بیٹر بن گئے ہیں۔
مزیدپڑھیں:ٹرین سے سفر کرنے والے مسافروں کے لیے اہم خبر
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: جیمی اسمتھ نے ہیری بروک تیز ترین
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔