کیا نواز شریف عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل جائیں گے؟ رانا ثنا اللہ نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ یہ ہمارے لیے آخری موقع ہو گا کہ بطور قوم ہم خود کو سنبھالیں، معیشت کو بہتر کریں۔ میری بات مان لیں کے آگے چلیں، پچھلےحساب کے خلاف نہیں ہوں۔
ایک نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان بہترین مقام پر ہے، 2013 سے 2018 تک ہم نے حکومت کی مگر کرنے نہیں دی گئی اس کے باوجود ہم ملک کو بہت حد تک درست کرنے میں کامیاب رہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا حکومت گرانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، رانا ثنا اللہ
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہم دنیا میں سرخرو ہوئے ہیں اور ہر کوئی پاکستان کی مدد کرنے اور تعاون کرنے کو تیار ہے، یہ موقع ہمارے لیے آخری ہو گا کہ بطور قوم ہم خود کو سنبھالیں، معیشت کو بہتر کریں۔ میری بات مان لیں کے آگے چلیں، پچھلےحساب کے خلاف نہیں ہوں، میرا اپنا پچھلا حساب باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سول اداروں کی ماں پارلیمنٹ ہے، سیاسی قوتوں میں وہ ہم آہنگی جو پارلیمانی سسٹم میں ضروری ہے وہ نہیں ہے، وہ خرابی 2011 سے شروع ہوئی ہے، وزیراعظم اپوزیشن سیٹوں پر گئے ان کا شکریہ ادا کیا تھا، وزیراعظم نے کہا ملک کی بہتری کے لیے بیٹھنا چاہیے اور بات کرنی چاہیے، وزیراعظم نے اپوزیشن کو 3 بار بیٹھ کر بات کرنے کی پیش کش کی۔
یہ بھی پڑھیے:
انہوں نے کہا کہ ایسی باتیں بنانا کہ نوازشریف جیل جائیں گے، وہ وہاں پر لائن میں لگ کر ملاقات کریں گے یہ طریقہ نہیں، نوازشریف سینیئر سیاستدان ہیں، ان کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹرینز کی تنخواہ 9 سال سے نہیں بڑھائی گئی، اب اپ ڈیٹ کی گئی ہے، مختلف اداروں کے افسران کی تنخواہوں کو دیکھیں تو ابھی بھی فرق ہے، ساراملبہ اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ پر نہیں گرنا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
rana sana ullah جیل رانا ثنا اللہ نواز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جیل رانا ثنا اللہ نواز شریف رانا ثنا اللہ نے کہا کہ
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔