بیجنگ :چین کے ر وزیر خارجہ وانگ ای نے پیرس میں فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو کے ساتھ چین فرانس اعلیٰ سطحی عوامی تبادلے کے میکانزم کے ساتویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔وانگ ای نے کہا کہ گزشتہ سال مئی میں صدر شی جن پھنگ نے سفارتی تعلقات کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ مشترکہ طور پر منانے اور آئندہ 60 برسوں تک چین اور فرانس کے تعلقات کی سمت کو آگے بڑھانے کے لیے فرانس کا تاریخی دورہ کیا۔ فریقین نے افراد کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو بڑھانے اور عوامی تبادلے کے’’”دو طرفہ بہاؤ ‘‘کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سربراہان مملکت کے اتفاق رائے کی رہنمائی میں چین اور فرانس نے مختلف شعبوں میں تعاون کو تیز کیا ہے اور مثبت نتائج حاصل کیے ہیں۔ چین فرانس ثقافتی سیاحت کا سال مکمل طور پر کامیاب رہا، سینکڑوں تقریبات کامیابی سے منعقد ہوئیں اور 6000 سے زائد فرانسیسی طلباء عوامی تبادلے اور مطالعہ کے لیے چین گئے۔ اس کے علاوہ فریقین نے کاربن غیر جانبداری، ثقافتی آثار کے تحفظ اور بحالی، صحت اور ادویات وغیرہ جیسے شعبہ جات پر سرگرمیوں کے کئی سلسلے منعقد کئے۔وانگ ای نے کہا کہ رواں سال چین فرانس اعلیٰ سطحی عوامی تبادلے کا طریقہ کار دوسری دہائی میں داخل ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک کو چین اور فرانس کے درمیان عوامی تبادلے کو مزید گہرا کرنا چاہیے اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے اس سلسلے میں چار اقدامات پر زور دیا ۔پہلا نوجوانوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا،دوسرا مقامی سطح پر تعاون کو فروغ دینا،تیسرا دونوں ممالک کے درمیان سفر کو آسان بنانا اور چوتھا جدت طرازی کی قیادت کو برقرار رکھنا۔فرانسیسی وزیر خارجہ بارو نے کہا کہ فرانس اور چین کے درمیان ثقافتی تبادلے رنگا رنگ اور نتیجہ خیز ہیں جو دونوں ممالک کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بن گئے ہیں۔یہ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کی مضبوط ضمانت فراہم کرتے ہیں بلکہ فرانس اور چین کو عالمی چیلنجوں سے مشترکہ طور پر نمٹنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ملاقات کے بعد، فریقین نے “چین-فرانس اعلیٰ سطحی عوامی تبادلے کے طریقہ کار کے ساتویں اجلاس کا مشترکہ بیان” جاری کیا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سطحی عوامی تبادلے عوامی تبادلے کے چین فرانس اعلی کے درمیان نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم