یوم عاشورآج عقیدت و احترام اور مذہبی رواداری کیساتھ منایا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جہانیاں(آن لائن)نواسہ رسول ؐ حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی لازوال قربانیوں کی یاد میں یوم عاشور 10محرم الحرام6جولائی اتوار کو نہایت عقیدت و احترام اور مذہبی رواداری کے ساتھ منایا جائے گا، یوم
عاشور کے موقع پر ملک بھر میں مجالس عزاء منعقد ہوں گی جبکہ علم،تعزیے اور ذوالجناح کے ماتمی جلوس نکالے جائیں گے شام کو مجالس شام غریباں برپا ہوں گی۔نواسہ رسول ؐ ،جگر گوشہ بتول ؑ،حضرت امام حسین ؑ اورشہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلیے10محرم الحرام6جولائی اتوار کو اسلام آباد،چاروں صوبوں،آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان ،جنوبی پنجاب ،جہانیاں سمیت ملک بھر کے طول و عرض میںمجالس عزاء،علم وتعزیہ اورذوالجناح کے ہزاروں جلوس برآمد ہوں گے جس میں لاکھوں کی تعداد میں عزادار شامل ہو کر ماتم داری اور نوحہ خوانی کرکے اپنا پرسہ پیش کریں گے۔ملک بھر میں منعقدہ مجالس عزاء میں علمائے کرام اور ذاکرین فلسفہ شہادت بیان کرتے ہوئے حضرت امام حسین ؑ اور ان کے رفقاء کی دین اسلام کی سربلندی کیلئے کربلا کے تپتے ریگزار میں پیش کی گئی عظیم قربانیوںکو خراج عقیدت پیش کریں گے مجالس عزا ء کے اختتام پرشبیہہ علم وذوالجناح اور تعزیے کے بڑے بڑے جلوس برآمد ہوں گے جو کہ اپنے مقررہ راستوں سے گزر کر شام کو واپس آستانوں پر اختتام پذیر ہوں گے جہاں پر مجالس شام غریباؓ بپا ہوں گی اس موقع پر پولیس و انتظامیہ کی جانب سے انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کی جا چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔