Jasarat News:
2026-07-24@09:00:36 GMT

امت کو حسینی کردار اپنانا ہوگا!

اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آج ساری امت، یوم حسینؓ منا رہی ہے۔ ہر زبان پر ایک ہی صدا ہے کہ سیدنا امام حسینؓ نے دین ِ اسلام کی بنیادوں کو بچانے کے لیے بے مثال قربانی دی۔ اس پر سب کا اجماع ہے کہ امام نے محض ذاتی مفاد یا اقتدار کی خاطر نہیں، بلکہ خلافت ِ راشدہ کو ملوکیت میں بدلنے کی سازش کو روکنے کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ مگر افسوس! آج دین کی وہی بنیادیں جسے امام نے بچایا تھا، ایک ایک کر کے ڈھائی جا رہی ہیں۔ مسلم حکمران طاغوت کے غلام بنے بیٹھے ہیں۔ سودی معیشت کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں، مغرب کے نظام کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ خلافت کے تصور کو فرسودہ کہا جا رہا ہے، اور ملوکیت جمہوریت کے نام پر خاندانی سیاست کی شکل میں ہمارے سامنے ناچ رہی ہے۔ عرب دنیا ہو یا برصغیر، سب جگہ اقتدار چند خاندانوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ فلسطین، کشمیر اور بھارت کے مسلمان بدترین مظالم کا شکار ہیں۔ قابض اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023ء سے غزہ پر وحشیانہ جنگ مسلط کر رکھی ہے جس میں قتل، بھوک، تباہی اور جبری ہجرت جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ قتل عام امریکا کی پشت پناہی میں ہورہا ہے۔ اس ہولناک نسل کشی میں اب تک 92 ہزار سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، جبکہ 10 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں اور لاکھوں فلسطینی جبری طور پر بے گھر ہو چکے ہیں۔ بدترین قحط نے بچوں سمیت بے شمار جانیں نگل لی ہیں۔ لیکن ان مظالم کے خلاف اٹھنے والی آوازیں موجود لیکن مدھم ہیں۔ مسلم حکمرانوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ظلم کا ہر پیکر اْن میں جھلکتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ امت مسلمہ نے اپنا اپنا ’’حسین‘‘ تراش لیا ہے۔ ہم نے نواسۂ رسول کو بھلا دیا ہے، اْن کی قربانی کے مقصد کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ امام حسینؓ نے جو شہادت دی کیا وہ کسی فرقے، قبیلے یا خاندان کے لیے تھی؟، ناکہ پوری امت اور انسانیت کے لیے تھی۔ مگر آج ہم ہر سچ کو تعصب کی عینک سے دیکھتے ہیں، ہر مخالف کو ’’یزید‘‘ قرار دے کر خود کو ’حسین‘‘ ثابت کرنے پر تْلے ہوئے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ: ’’قتل ِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘ امام حسینؓ کی شہادت، حق و باطل کے معرکے میں راہِ حق پر چلنے والوں کے لیے مشعل ِ راہ ہے۔ خانوادۂ رسول نے شہادت کو گلے لگا کر بتا دیا کہ دین کی سربلندی کے لیے ہر قربانی ناگزیر ہے۔ لیکن آج امت مسلمہ اْس اسوۂ حسینی سے انحراف کر چکی ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ باطل طاقتیں ہم پر غالب آ چکی ہیں۔ فلسطین میں انسانیت سسک رہی ہے، مگر مسلم حکمران مفادات کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں۔ امام حسینؓ کا فلسفہ ٔ شہادت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ظلم پر خاموشی اختیار کرنا بذاتِ خود ایک بڑا جرم ہے۔ امت کو ہر ظلم کے خلاف اٹھنا ہوگا، آواز بلند کرنا ہوگی۔ آج امت، وسائل اور عددی طاقت کے باوجود ذلت کا شکار ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ ہمارے اندر وہ حسینی کردار نہیں رہا، جو ظلم کے خلاف ڈٹ جائے۔ بدترین ظلم یہ ہے کہ امام حسینؓ ہی کے نام کو استعمال کر کے ظلم کو جائز قرار دیا جا رہا ہے، اور انہی کے نام پر امت کے راستے بند کیے جا رہے ہیں۔ حالانکہ راستے تو ان کے بند ہونے چاہئیں جو ظلم کے نمائندے بنے بیٹھے ہیں۔ آج کا باطل بہت شاطر ہے، وہ حق کا لباس پہن کر آتا ہے، خوشنما الفاظ میں لپٹا ہوتا ہے۔ جب تک ہم اسے پہچان نہیں لیں گے، اس سے نجات ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حسینی کردار کو سمجھیں، اس کا مطالعہ کریں، اس کی روح کو اپنے اندر اْتاریں، اور اس راہ پر عملی طور پر چلیں۔ ہمیں ظلم کی ہر علامت کو مٹانا ہوگا، ہر باطل سوچ، نظام اور عمل کو مسترد کرنا ہوگا۔ تبھی امت اٹھے گی، تبھی بیت المقدس آزاد ہوگا، تبھی کربلا کا پیغام زندہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بیٹھے ہیں کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل