اہلِ بیتؑ کے چاہنے والے روزِ قیامت نور کے ساتھ اٹھائے جائیں گے، علامہ شہنشاہ نقوی
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
نشتر پارک میں محرم الحرام کی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین نے کہا کہ قیامت کی تیاری کا سب سے سچا راستہ یہی ہے کہ انسان حسینی بن جائے، جو کربلا کو سمجھے گا وہ محشر میں شرمندہ نہ ہوگا جو آنکھ دنیا میں حسینؑ پر گریہ کرتی ہے وہ آنکھ قیامت میں اندھی نہ ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی عشرہ محرم الحرام کی نویں مجلس عزا سے نشتر پارک میں خطاب کرتے ہوئے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر آسمانی دین اور ہر پیغمبر نے یقین دلایا ہے، قرآن مجید بارہا اس دن کا ذکر کرتا ہے، جس دن اعمال کا حساب ہوگا ظالم کو اس کا ظلم اور مظلوم کو اس کا حق ملے گا، قیامت عدلِ الٰہی کا ظہورِ کامل ہے، امام حسینؑ کا قیام اسی عدل کے قیام کی تمہید تھا، آپ نے دنیا کی خاموش فضا میں ظلم کے خلاف وہ صدا بلند کی جو قیامت تک خاموش نہ ہوگی، قیامت کا ایک نام یوم الحسرۃ بھی ہے یعنی حسرت کا دن، وہ دن ظالم کے لیے حسرت کا ہوگا کہ کیوں حق کا ساتھ نہ دیا اور محبِّ حسینؑ کے لیے فخر و اطمینان کا دن ہوگا کہ اس نے حسینؑ کے کاروان کا ساتھ دیا، روایات میں ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو سب انبیاء، اولیاء اور شہداء اپنی اپنی منزلوں پر ہوں گے مگر حسینؑ کا خیمہ عرشِ الٰہی کے قریب ترین ہوگا، قیامت کی سب سے بڑی سفارش حسینؑ کے ہاتھ میں ہوگی، قیامت کی تیاری کا سب سے سچا راستہ یہی ہے کہ انسان حسینی بن جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کربلا کو سمجھے گا وہ محشر میں شرمندہ نہ ہوگا جو آنکھ دنیا میں حسینؑ پر گریہ کرتی ہے وہ آنکھ قیامت میں اندھی نہ ہوگی، اہلِ بیتؑ کے چاہنے والے روزِ قیامت نور کے ساتھ اٹھائے جائیں گے، امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں جب روزِ قیامت میرے جد حسینؑ کو لایا جائے گا تو ان کے خون آلود لباس کی گواہی زمین و آسمان دیں گے اور پھر ہر آنکھ اشکبار ہو جائے گی، حسینؑ کی قربانی محض ایک تاریخ نہیں بلکہ قیامت کی روشنی ہے، وہ جو روزِ عاشورا کو سمجھ گیا وہ روزِ قیامت کو نہیں بھولے گا، حسینؑ کا ذکر روزِ محشر بندوں کی نجات کا سبب ہوگا، وہ گریہ جو دنیا میں حسینؑ پر کیا گیا وہ محشر میں سکون بن جائے گا، قیامت کا کارواں حسینؑ کے قدموں کے نشان پر ہی چل کر نجات پائے گا، جو حسینؑ کے ساتھ ہے وہ عدالتِ قیامت میں کامیاب ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قیامت کی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔