حوالدار لالک جان شہید کا 26واں یوم شہادت 7جولائی کو منایا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
مکوآنہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 جولائی2025ء)معرکہ کارگل میں نشان حیدر اعزاز حاصل کرنے والے حوالدار لالک جان شہید کا 26واں یوم شہادت 7جولائی کو منایا جائے گا اس سلسلے میں فیصل آباد سمیت مختلف شہروں میں منعقدہ تقریبات میں شہید لالک جان کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔
(جاری ہے)
حوالدار لالک جان شہید پاکستان کے جنت نظیر علاقہ گلگت بلتستان میں پیدا ہوئے انہوں نی1999ء میں ناردرن لائٹ انفنٹری کے جونیئر افسر کی حیثیت میں بھارت کے خلاف کارگل کے معرکے میں حصہ لے کراپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے پاک فوج کا اعلیٰ ترین اعزاز نشان حیدر حاصل کیا۔
حوالدار لالک جان کی مادری زبان کھوا رتھی لیکن انہیں برشسکی اور شیناز زبانوں پر بھی عبور حاصل تھاوہ نشان حیدر اعزاز حاصل کرنے والے اب تک کے آخری فوجی ہیں۔وہ7جولائی 1999ء کو جام شہادت نوش کر گئے تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔