City 42:
2026-07-24@05:35:40 GMT

ایف بی آر:منافع یانقصان پرنئےٹیکس قواعدمتعارف

اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT

 کلیم اختر:ایف بی آرنےسٹاک مارکیٹ سےمنافع یانقصان پرنئےٹیکس قواعدمتعارف کرادیئے.

شیئرزمیں سرمایہ کاری کرنیوالوں کیلئےاہم تبدیلی،ہرسال ریٹرن فائل کرنالازمی قرار  دیا گیا،شیئرزبیچنےپرہونیوالےنقصان کواب 3سال تک ایڈجسٹ کیا جا سکے گا،شیئرز بیچنے سے ہونے والے نقصان کو منافع پر ایڈجسٹ کیا جاسکے گا،ایف بی آر کی ایکٹولسٹ میں شامل افراد کو ہی شیئرز کے نقصان کا فائدہ مل سکے گا،پچھلے سال کا ریٹرن فائل ہونے کی صورت میں ہی نقصان کو ایڈجسٹ کیا جاسکے گا۔

سمگلنگ کی روک تھام میں کوسٹ گارڈز  کی کاوشیں قابل ستائش ہیں:محسن نقوی  

 ایف بی آر  کے مطابق شیئرزکامنافع یانقصان اب این سی سی پی ایل ہرماہ خودحساب کرےگا،میعادختم ہونےسےپہلےایڈجسٹ کرنےکیلئےہرسال کےنقصان کی الگ تفصیل رکھی جائیگی،نیاسرٹیفکیٹ فارم بھی متعارف،نفع، نقصان اور جمع شدہ ٹیکس کی مکمل تفصیل ہو گی،اب ٹیکس ریٹرن فائل کیے بغیر شیئرز کے نقصان کا فائدہ نہیں اٹھایا جا سکے گا،شیئرزکےکاروبارسےوابستہ افرادکونیاسسٹم بہترسہولت دےگا، ذمہ داری بھی بڑھ گئی۔

ایف بی آرکیجانب سےسرمایہ کاروں کوقواعدکےمطابق نقصان ایڈجسٹ کرنے کاموقع دیاگیا،اب صرف ٹیکس دینےوالےاوربروقت فائل کرنےوالےنقصان کافائدہ اٹھا سکیں گے،پرانے نقصان کو ایڈجسٹ کرنے کی مدت صرف تین سال مقرر کی گئی۔

 

کپل شرما فی قسط کتنا معاوضہ لیتے رہے؟ تیسرے سیزن کی آمدنی کتنی؟

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی