چانگان نے اپنی تمام گاڑیوں کی قیمتیں بڑھا دیں، اطلاق یکم جولائی 2025 سے ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
معروف چینی آٹو کمپنی چانگان نے پاکستان میں اپنی تمام گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے, یہ نئی قیمتیں یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوں گی، اور اس فیصلے کا اطلاق کمپنی کے تمام ماڈلز پر ہوگا۔
قیمتوں میں یہ رد و بدل بجٹ 2025-26 میں کی گئی تبدیلیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی مقامی آٹو انڈسٹری پر واضح نظر آ رہے ہیں۔
چانگان کی مشہور اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل(ایس یو وی) اوشان ایکس7 کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، 7 نشستوں والی کمفرٹ کی قیمت میں 1 لاکھ 75 ہزار روپے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 84 لاکھ 74 ہزار روپے ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہنڈائی کی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان، صارفین کس طرح متاثر ہوں گے؟
دوسری جانب 5 نشستوں والی ایف ایس5 کی قیمت اب 91 لاکھ 49 ہزار روپے ہو گئی ہے، جو پہلے سے 2 لاکھ روپے زائد ہے، اسی طرح 7 نشستو والی ایف ایس کی نئی قیمت بھی 2 لاکھ روپے اضافے کے ساتھ 92 لاکھ 99 ہزار روپے ہوگئی ہے۔
چھوٹی سیڈان گاڑی السوِن کے تمام ویریئنٹس کی قیمتوں میں 90 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، ایم ٹی کمفرٹ اب 41 لاکھ 89 ہزار روپے میں دستیاب ہے، جو پہلے کے مقابلے میں 90 ہزار روپے مہنگی ہوئی۔
لومیئر اور لومیئر بلیک ایڈیشن دونوں کی قیمتوں میں 1 لاکھ روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور ان کی نئی قیمتیں بالترتیب 48 لاکھ 99 ہزار اور 49 لاکھ 99 ہزار روپے ہو گئی ہیں۔
مزید پڑھیں:
مسافر وین کاروان پاور پلس 1.
اسی طرح چانگان شیرپا پاور 1.2 ماڈل کی قیمت میں 45 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے، اور اب یہ 23 لاکھ 49 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔
قیمتوں میں اضافے کی وجہحالیہ وفاقی بجٹ 2025-26 میں نئی توانائی گاڑیوں کو اپنانے کے حوالے سے ایک نیا ٹیکس متعارف کروایا گیا ہے، جسے این ای وی لیوی کہا جاتا ہے، اس ٹیکس کی شرح گاڑی کے انجن کی گنجائش پر منحصر ہے اور یہ 1 فیصد سے 3 فیصد کے درمیان ہے۔
اسی اضافی مالی بوجھ کو پورا کرنے کے لیے چانگان سمیت دیگر مقامی گاڑی ساز کمپنیوں کو قیمتوں میں رد و بدل کرنا پڑا ہے، بعض کمپنیوں نے جزوی طور پر قیمتوں میں اضافہ کو برداشت کیا، مگر بیشتر برانڈز نے اس بوجھ کا کچھ نہ کچھ حصہ صارفین پر منتقل کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ہزار روپے ہو گئی کی قیمتوں میں کیا گیا ہے لاکھ روپے کی قیمت گئی ہے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔