ماہرین کا بجلی کے پیچیدہ نرخوں کو سادہ اور موثر بنانے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (SDPI) کے زیراہتمام ”بجٹ کے بعد بجلی کی قیمتوں پر مکالمہ: مالی ترجیحات اور ٹیرف اصلاحات کے اثرات“ کے عنوان سے ایک سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس مباحثے میں توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی، جنہوں نے پاکستان کے توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز خصوصاً بجلی کے نرخوں کے موجودہ پیچیدہ نظام پر تفصیل سے گفتگو کی۔ ماہرین نے پالیسی سازی کے عمل میں تمام متعلقہ شراکت داروں کی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا۔
سیشن کی نظامت ایس ڈی پی آئی کے سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ عبیدالرحمٰن ضیاء نے کی، جبکہ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین میں انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانکس انجینئرز پاکستان (IEEEP) کے صدر طاہر بشارت چیمہ، انرجی اینالسٹ اور صنعت کار ریحان جاوید، سینئر انرجی ایسوسی ایٹ ایس ڈی پی آئی ڈاکٹر خالد ولید اور ایس ڈی پی آئی کے پروگرام منیجر احد نذیر، یو ایس پاکستان سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان انرجی (یو ایس پی سی اے ایس۔ای) کے پرنسپل ڈاکٹر عدیل وقاص، سابق سی ای او پاکستان ٹیکسٹائل کونسل اور اب ایک آزاد کنسلٹنٹ شیخ محمد اقبال شامل تھے۔
ریحان جاوید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شعبے میں نجکاری کے لیے حکومت کو اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، تاکہ مسابقتی مستقبل کو حقیقت کا روپ دیا جاسکے۔ انہوں نے کے۔الیکٹرک کی نجکاری کے بعد اس کے دائرہ اختیار میں تکنیکی اور خدمات کے شعبے میں بہتری کو سراہتے ہوئے اسے دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) کے لیے قابلِ تقلید ماڈل قرار دیا۔ اداروں کو نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ایسی مثبت پیش رفت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نہ کہ ایسی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں جو اصلاحاتی عمل اور حتمی مقاصد کے حصول میں حائل ہوجائیں۔
ریحان جاوید نے تجویز دی کہ قومی سطح پر ایسے ٹیرف متعارف کرائے جائیں جو صنعتی شعبے کی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ جس سے صنعتیں اپنی پیداوار اور آپریشنل منصوبہ بندی مؤثر انداز میں کرسکیں اور بجلی کی لاگت کی منصفانہ تقسیم بھی یقینی بنائی جاسکے گی۔ انہوں نے نیٹ میٹرنگ کے چیلنجز اور بجلی چوری سے متعلق قواعد و ضوابط کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر قانون سازی اور سخت نگرانی ناگزیر ہے، تاکہ توانائی کے شعبے میں بہتری اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
طاہر بشارت چیمہ نے بجلی کے نرخوں کے فرسودہ اور غیر موثر نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیرف اسٹرکچر 1960 کی دہائی میں تشکیل دیا گیا تھا، جس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ اُس وقت ٹیرف اسٹرکچر کا بنیادی مقصد بجلی کے بوجھ کو کم کرنا تھا، یہ ایسا مقصد ہے جو آج غیر متعلقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے موجودہ ٹیرف نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔ زائد بجلی کے استعمال پر ”ہول سیل ریٹس“ جیسے تصورات متعارف کرانا چاہیے۔ ٹیرف کا تعین ڈسٹری بیوشن کمپنیز (DISCOs)، جنریشن کمپنیز (GENCOs) اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے (IPPs) کے دائرہ کار اختیار میں نہیں، یہ کام حکومت کرتی ہے اور اُس کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرے۔ بشارت چیمہ نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں سرمایہ کاری بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ ان اداروں کو محدود فنڈنگ اور بعض علاقوں میں ناقص آپریشنل کارکردگی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
طاہر چیمہ نے کہا کہ بجلی کے بلوں پر عائد بھاری ٹیکسز کم کیے جائیں۔ موجودہ بجلی کا نظام بظاہر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے لیے آمدن بڑھانے کا ایک ذریعہ ہے۔ انہوں نے بجلی کے بلوں سے ٹی وی لائسنس فیس کے خاتمے اور بعضDISCOs کے بورڈز کو خودمختار بنانے جیسے اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کی چوری بڑھنا تشویشناک ہے۔ اس جرم کی روک تھام کی کوششوں کے نتیجے میں ڈسکوز کے نمائندوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ توانائی کے شعبے کے مسائل کا حل صرف نجکاری نہیں، بلکہ اس شعبے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زیادہ جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے پروگرام منیجر احد نذیر نے توانائی کے غیر موثر استعمال پر توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ملک میں توانائی کا بڑا حصہ غیرپیداواری مقاصد کے لیے استعمال ہورہا ہے۔ بجلی کی پیداوار کے لیے روایتی ایندھن کا انحصار ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی شعبے کے موجودہ اسٹرکچر کے اہم مسائل بجلی کی پیداوار کے لیے روایتی ایندھن پر انحصار اور گردشی قرض ہیں، جس کی وجہ وہ بجلی گھر ہیں جو اپنی عمر پوری کرچکے ہیں مگر اب بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔
ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ پاکستان میں پیداوار کے لیے بجلی کی طلب میں اضافہ ضروری ہے۔ سبسڈی نظام میں اصلاحات کی جائیں، خاص طور پر کراس سبسڈی میں، جس میں 54 فیصد آبادی کو رعایتی نرخ (پروٹیکٹیڈ ٹیرف) پر بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں مسابقتی مارکیٹ کے قیام اور بجلی کی خریداری معاہدوں میں اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا۔
ڈاکٹر عدیل وقاص نے ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ میٹرز اور ڈیجیٹائزیشن بجلی کے نظام میں انقلابی تبدیلی لاسکتی ہیں۔ اسمارٹ میٹرز اور خودکار نظام نہ صرف انسانی مداخلت اور بدعنوانی کو کم کرسکتے ہیں بلکہ آپریشنل کارکردگی اور شفافیت میں بھی نمایاں بہتری لاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کے مستقبل کی تشکیل کے لیے مقامی اداروں اور انجینئرز کو ذمہ داریاں سونپے۔
شیخ محمد اقبال نے بجلی صارفین کے درمیان کراس سبسڈی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس پالیسی پر نظر ثانی کی جائے تو بجلی کے استعمال کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔
پینل میں شامل ماہرین نے پاکستان کے توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز پر جامع گفتگو کی، جن میں بجلی کی پیداوار ی لاگت میں اضافہ، زائد پیداواری صلاحیت کے باوجود مؤثر استعمال نہ ہونا، ٹیرف اصلاحات کی ضرورت اور مالیاتی پالیسیوں کے بجلی کی قیمتوں پر اثرات شامل ہیں۔ انہوں نے اس شعبے میں انتظامی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے شفافیت، شراکت داروں کی شمولیت اور نجکاری کے لیے زیادہ جامع نقطہ نظر کی اہمیت پر زور دیا۔
سیشن کا اختتام پاکستان میں پائیدار اور مساوی توانائی کے مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہوا۔ مباحثے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ صرف مارکیٹ پر مبنی پالیسیوں پر انحصار کافی نہیں، بلکہ ایک متوازن حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس میں حکومتی نگرانی، پالیسی سپورٹ اور نجی شعبے کی شمولیت ہو۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ