غلط بیانی پر وزیراعظم نااہل ہوسکتا ہے تو ایوان کو تماشا بنانے والے کیوں نہیں، ملک احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ غلط بیانی پر ملک کے وزیراعظم کو نااہل کیا جاسکتا ہے تو ایوان کو تماشا بنانے والوں کو کیوں نہیں کیا جاسکتا۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بغیر نام لیے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ کی سیاسی جماعت غنڈہ گردی چاہتی ہے جو سڑک پر ہوتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو تو پھانسیاں دی گئیں، ماؤں اور بیویوں کے جنازے اٹھے، کیا اس کی گواہی اسمبلیاں ہوں گی یہ تو میرا سوال ہے، اگر پارلیمانی پارٹی بیٹھ کر بات نہیں کرے گی تو 63 ٹو کا فیصلہ سامنے آ جائے گا۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اسمبلی میں آنے سے پہلے اور بعد کے معاملات الگ الگ ہیں، اسمبلی میں تقریر ، پارلیمانی روایات کو پسند کرتا ہوں، کیا صرف آپ کی گالی دینا ہی صلاحیت ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ جس سے نوازشریف گھر گیا یہ اچھا فیصلہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس میں بالکل واضح لکھا ہے کہ ممبران کی جانب سے حلف کی خلاف ورزی پر اسپیکر الیکشن کمیشن کو نااہلی کےلیے ریفرنس بھیجے گا، پینتیس سال سے غنڈہ گردی کو بریک لگنی چاہیئے، تیس دن کے اندر اندر فیصلہ کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا حسن بات چیت ہے، حکومت و اپوزیشن سے کہوں گا الفاظ کی حرمت کو مت بھولیں سیاست بات چیت کا نام ہے مرنے مارنے کا نام نہیں ہے، غلط بیانی پر وزیراعظم کو نااہل کیا جاسکتا ہے تو ایوان کو تماشا بنانے والوں کو کیوں نہیں کیا جاسکتا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کیا جاسکتا
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟