صدر ٹرمپ کا نیتن یاہو کے اعزاز میں عشائیہ، غزہ جنگ بندی پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں عشائیہ دیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا، صدر ٹرمپ نے اس موقع پر تصدیق کی کہ امریکا ایران کے ساتھ نئی بات چیت کا آغاز کرے گا۔
صدر ترمپ کی جانب سے ایران سے مذاکرات کا عندیہ گزشتہ ماہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد پہلی پیشرفت ہوگی، انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران سے مذاکرات طے کرلیے ہیں، اور وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔
نیتن یاہو، جو عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری کی وجہ سے کئی ممالک کے سفر سے محدود ہیں، آئندہ چند روز امریکا میں گزاریں گے، جہاں قطری دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی و حماس نمائندگان کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی خاطر مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم
اس موقع پر نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں دیے گئے عشائیے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہم مشرق وسطیٰ کے ساتھ امن قائم کرسکتے ہیں۔
تقریباً 21 ماہ سے جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں، جس نے غزہ کی بیشتر عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 60 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ایسے میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک نئے 60 روزہ جنگ بندی منصوبے کی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت مرحلہ وار مغویوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کے کچھ علاقوں سے انخلاء کے بعد جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: نیتن یاہو غزہ جنگ بندی کے خواہاں، آئندہ ہفتے حماس کے ساتھ معاہدہ طے پا سکتا ہے، ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس ہفتے معاہدہ طے پا سکتا ہے،گزشتہ ہفتے انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ’سخت مؤقف‘ اختیار کریں گے تاکہ معاہدہ یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل، حماس کے مکمل خاتمے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی تک غزہ پر حملے جاری رکھے گا، حماس نے اصرار کیا ہے کہ جنگ بندی اسی صورت ممکن ہوگی جب جنگ مکمل طور پر ختم کرنے کی ضمانت دی جائے، اس سے پہلے یرغمالیوں کی رہائی ممکن نہیں۔
یہ متضاد مؤقف قطر میں جاری جنگ بندی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جن کی معاونت مصر کر رہا ہے۔ تاہم، وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو نے کہا کہ ہم اپنے اُن فلسطینی پڑوسیوں سے امن قائم کریں گے جو ہمیں نیست و نابود کرنا نہیں چاہتے اور ہم ایسا امن چاہیں گے جس میں اسرائیل کی خودمختار سیکیورٹی مکمل طور پر ہمارے اختیار میں ہو۔
مزید پڑھیں:غزہ: 24 گھنٹوں میں 72 شہید، یورپی یونین کے رہنماؤں کا اسرائیلی جنگ فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امدادی سامان کے غزہ میں آزادانہ اور محفوظ داخلے کی اجازت نہ دینا مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
امریکی حمایت یافتہ امدادی نظام کے نفاذ کے بعد، جو 11 ہفتوں کی اسرائیلی ناکہ بندی کے بعد مئی کے آخر میں شروع کیا گیا، سینکڑوں فلسطینی خوراک کی تلاش میں جاں بحق ہو چکے ہیں، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق دفترکے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں امدادی مراکز اور قافلوں کے قریب 613 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔
امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی، اسٹیو وٹکوف، رواں ہفتے دوحہ روانہ ہوں گے تاکہ جنگ بندی مذاکرات میں دوبارہ شامل ہو سکیں، انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے کے دوران شروع ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی حملے، مزید 72 فلسطینی شہید، کھانے کے منتظر شہری بھی نشانہ بنے
پچھلے ماہ 3 ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے سے قبل امریکا ایران سے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کر رہا تھا، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے بدلے اقتصادی پابندیاں نرم کی جاتیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، جوہری مذاکرات جلد ناروے میں بحال ہونے والے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ نے جگہ یا تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے، لیکن آپ کل خبروں میں دیکھیں گے۔
’جب ہم نے ایران پر حملہ کیا، تو میرا مؤقف تھا کہ پھر بات چیت کا کیا فائدہ، لیکن اب انہوں نے ملاقات کی درخواست کی ہے، اور اگر ہم کوئی معاہدہ کاغذ پر لے آئیں، تو یہ ایک اچھی بات ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیو وٹکوف اسرائیل اقوام متحدہ امریکا امریکی صدر انسانی حقوق ایران جوہری تنصیبات حماس ڈونلڈ ٹرمپ غزہ مذاکرات نوبیل امن انعام نیتن یاہو وائٹ ہاؤس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیو وٹکوف اسرائیل اقوام متحدہ امریکا امریکی صدر ایران جوہری تنصیبات ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات نوبیل امن انعام نیتن یاہو وائٹ ہاؤس وائٹ ہاؤس نیتن یاہو کے مطابق انہوں نے بات چیت کے ساتھ بندی کے کہا کہ کے لیے نے کہا کے بعد
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز