سونے کی فی تولہ قیمت میں گزشتہ مالی سال کے دوران ایک لاکھ 8 ہزار 500 روپے اضافہ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 جولائی2025ء) 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں گزشتہ مالی سال کے دوران ایک لاکھ 8 ہزار 500 روپے اضافہ ہوا ہے، گزشتہ مالی سال 25-2024 کے اختتام پر فی تولہ قیمت 3 لاکھ 50 ہزار 200 روپے تک پہنچ گئی۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (اے پی ایس جی جے اے) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والا اضافہ ، ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں کمی ، افراط زر اور سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کی طلب میں اضافہ کے نتیجہ میں گزشتہ مالی سال کے دوران سونے کی مقامی قیمتوں میں اضافہ کا رجحان رہا ہے ۔
واضح رہے کہ 29 جون 2024 کو 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 2 لاکھ 41 ہزار 700 روپے تھی جو مالی سال کے اختتام پر 3 لاکھ 50 ہزار 200 روپے تک بڑھ گئی۔(جاری ہے)
اس طرح مالی سال 24-2023 کے مقابلہ میں گزشتہ مالی سال 25-2024 کے دوران ملک میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک لاکھ 8 ہزار 500 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت گزشتہ مالی سال کے آغاز پر 2 لاکھ 7ہزار 219روپے تھی جس میں دوران سال 93 ہزار روپے کا اضافہ ہوا اور قیمت 3 لاکھ 240 روپے تک پہنچ گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال کے آغاز پر بین الاقوامی مارکیٹ میں 10 گرام سونے کی قیمت 2326 ڈالر تھی جو مالی سال کے اختتام پر 3280 ڈالر تک بڑھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی طلب میں خاطر خواہ اضافہ کے نتیجہ میں 10 گرام سونے کی قیمت میں 950 ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے جبکہ ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قیمت میں کمی ، افراط زر کی شرح اور سونے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے نتیجہ میں سونے کی مقامی قیمت میں اضافہ کا رجحان رہا ہے۔ اے پی ایس جی جے اے کے حکام نے کہا ہے کہ جاری مالی سال کے دوران بھی سونے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے باعث مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے تاہم پاکستان میں سونے کی قیمتوں کاتعین بین الاقوامی مارکیٹ میں کمی بیشی سے منسلک ہو گا۔\395\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بین الاقوامی مارکیٹ میں گزشتہ مالی سال کے دوران میں گزشتہ مالی سال مالی سال کے ا سونے کی قیمت فی تولہ قیمت میں سونے کی کی قیمت میں میں اضافہ
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔