زرعی ترقیاتی بینک میں اربوں کے قرض وصول نہ کرنے اور ملازمین کے فراڈ کے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائند ہ جسارت) زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے قرض داروں سے اربوں روپے وصول نہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر کی صدارت میں ہوا، جس میں زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے قرض داروں سے9 ارب روپے وصول نہ کرنے کا انکشاف ہوا ۔دوران اجلاس ملک بھر کے 1601 قرض داروں کی جانب سے ایک روپیہ بھی قرض واپس نہ کرنے پر کمیٹی اراکین حیران ہو گئے۔اس موقع پر آڈٹ حکام نے بتایا کہ کوئٹہ، کراچی اور لاہور کے قرض داروں کے لیے 16 فیصد واجب الادا رقم وصول کی گئی ہے تاہم ملک
بھر میں زرعی ترقیاتی بینک کے نادہندگان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ خواجہ شیراز نے استفسار کیا کہ ملک میں اس وقت جو سیکٹر منافع میں ہے وہ بینکنگ ہے لیکن زرعی ترقیاتی بینک کیوں مسلسل ڈوب رہا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو ریکوری ہوئی ہے اس کو آڈٹ سے ڈبل چیک کرائیں اور باقی کی وصولی کا بھی کمیٹی کو بتادیں۔زرعی ترقیاتی بینک کے ملازمین کا فراڈ میں ملوث ہوکر قومی خزانے کو 1.
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زرعی ترقیاتی بینک انکشاف ہوا
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی سکینڈل، بینک ملازم کے اکائو نٹ میں 55 ملین کی ٹرانزیکشن کا انکشاف
پشاور(آئی این پی )کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بینک ملازم کے اکائونٹ میں 55 ملین کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا ہے۔احتساب عدالت میں اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں گرفتار نجی بینک کے ملازم خالد احمد کو پیش کیا گیا، جہاں احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے ملزم کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔عدالت میں سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے ملزم سے متعلق ابتدائی پیشرفت عدالت کے روبرو پیش کی۔تفتیشی افسر کے مطابق ملزم خالد احمد کا تعلق اپر کوہستان سے ہے اور وہ ایک نجی بینک کی داسو برانچ میں ملازم ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ایک نجی کنسٹرکشن کمپنی کے نام پر بینک اکانٹ کھول رکھا تھا، جس کے ذریعے مبینہ طور پر مشکوک لین دین کی گئی، جس سے کیس میں نئے شواہد سامنے آئے۔عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ملزم کے کھولے گئے اکائو نٹ میں 55 ملین روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے۔ تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ ملزم کو تفتیش کے لئے متعدد مرتبہ طلب کیا گیا، تاہم وہ جان بوجھ کر تحقیقات میں شامل نہیں ہوا اور اس سلسلے میں مسلسل تعطل پیدا کرتا رہا، جس سے معاملہ مزید مشکوک ہوگیا۔تفتیشی افسر کے مطابق ملزم کو گزشتہ روز حراست میں لیا گیا، جب کہ موقف اختیار کیا گیا کہ کیس میں مزید اہم پہلوں پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس وجہ سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر حوالے کیا جائے تاکہ تفتیش مکمل کی جاسکے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔