اسرائیل کو تسلیم کیا گیا تو مزاحمت کریں گے: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
لاہور، گوجرانوالہ (خصوصی نامہ نگار، نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکمرانوں کو خبردار کیا ہے کہ ابراہم اکارڈ کا حصہ بننے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جرات کی گئی تو جماعت اسلامی عوامی طاقت سے زبردست مزاحمتی تحریک برپا کرے گی۔ منگل کو منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی پشت پناہی سے اسرائیل بدمست ہاتھی کی طرح انسانیت کو کچل رہا ہے۔ نسل در نسل امریکی غلامی اختیار کرنے والے حکمران ٹرمپ کی چاپلوسی، اس کے حق میں بیان دینے اور نوبل انعام کی نامزدگی کے چکر سے باہر نکلیں اور مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حق میں جرات مندانہ اقدامات اٹھائیں۔ امیر جماعت اسلامی نے بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے لیے احتجاج اور مظاہروں کے ازسرنو آغاز اور آئندہ دو روز میں اس کے بارے میں لائحہ عمل دینے کا اعلان کیا۔ احتجاج حکومت گراؤ تحریک میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔ نائب امیر لیاقت بلوچ، سیکرٹری جنرل امیرالعظیم اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ساجد ناموس بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب اور بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کی عدم موجودگی اور سندھ اور بلوچستان میں دھاندلی زدہ بلدیاتی حکومتوں کی ناقص کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ فارم 47 سے آئے ہوئے حکمران تمام اختیارات اور دولت اپنے قبضہ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ عدالت کے آئین و جمہوریت کے خلاف فیصلہ کے بعد سیاسی پارٹیوں میں مخصوص نشستوں کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے، یہ نشستیں پی ٹی آئی کی ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی اور سندھ پر ’’سسٹم‘‘ کا قبضہ ہے۔ مقتدرہ نے اس سسٹم کو اٹھا کر اسلام آباد میں بٹھا دیا اور فارم 47 کی بنیاد پر جعلی حکمران ملک پر مسلط کردیے گئے۔ پنجاب اسمبلی میں عوامی نمائندوں کو نااہل کرانے کا سپیکر کا اقدام جمہوریت اورجمہوری اصولوں کی نفی ہے۔ اسی طرح پنجاب میں مجرموں کو پولیس مقابلوں میں قتل کرنے کے مبینہ اقدامات یا لوگوں کو غائب کرنا بھی ماورائے عدالت و آئین اقدامات ہیں جن کی کسی بھی مہذب معاشرے میں ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اور چھوٹے کسانوں کی تباہی میں پنجاب حکومت نے بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر واضح کیا کہ کشمیر پر حق خودارادیت کے علاوہ کسی قسم کے مذاکرات یا ثالثی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ گوجرانوالہ میں ضلعی ذمہ داران سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ظلم و جبر اور فساد کی جگہ قرآن و سنت کے منصفانہ نظام کے قیام کی جد وجہد کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی ملک میں آئین و دستور کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی چاہتی ہے۔ عوام نے فارم 47 کی جعلی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ ہم نے عوام کی اس حق تلفی کی پرزور مذمت کی اور اس کے خلاف ہر سطح پر احتجاج کیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافط نعیم الرحمن نے ضلع گوجرانوالہ میں تنظیمی دورہ، عوامی کمیٹیوں کی پلاننگ، منصوبہ بندی اور ضلع میں جماعت اسلامی کی دیگر تنظیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی نعیم الرحمن نے حافظ نعیم نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔