شبلی فراز دل کی تکلیف میں اسپتال منتقل، 48 گھنٹے نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
شبلی فراز دل کی تکلیف میں اسپتال منتقل، 48 گھنٹے نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 July, 2025 سب نیوز
پشاور(آئی پی ایس) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز کو دل کی تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں 48 گھنٹے تک نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کو دل کی تکلیف پر اسپتال داخل کرادیا گیا ہے۔ انہیں رات گئے پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لایا گیا تھا، تاہم ان کی حالت تسلی بخش ہے۔
اسپتال میں شبلی فراز کی ڈاکٹرز مکمل نگرانی کررہے ہیں اور انہیں علاج معالجہ فراہم کیا جارہا ہے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ شبلی فراز کی اس سے قبل انجیو گرافی ہوچکی ہے۔ پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹر سے وہ علاج بھی کروا رہے ہیں۔
ترجمان پی آئی سی رفعت انجم کے مطابق سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کو گزشتہ شب ہنگامی طور پر منتقل کیا گیا تھا۔انہیں دل کی تکلیف ہوئی، جس کے بعد ابتدائی علاج کیاگیا۔
پی آئی سی کی ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم نے شبلی فراز کو آئندہ 24 سے 48 گھنٹے نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ڈاکٹرز کی ٹیم آج شبلی فراز کے آئندہ کے علاج کے بارے میں مشاورت کرے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی شاندار کارکردگی، ٹیکس وصولی کا نیا ریکارڈ قائم اسلام آباد ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی شاندار کارکردگی، ٹیکس وصولی کا نیا ریکارڈ قائم ٹرمپ اور نیتن یاہو کی غزہ جنگ بندی پر 24 گھنٹوں میں دوسری خفیہ ملاقات ٹرمپ کی پیوٹن پر سخت تنقید، روس پر مزید پابندیوں کا عندیہ دے دیا پشاور کی عدالت کا پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کو اسفند یار ولی کو 10لاکھ ہرجانہ دینے کا حکم قومی ایئر لائن کی نجکاری کیلئے 4 سرمایہ کار کمپنیاں اہل قرار افغان طالبان نے عالمی فوجداری عدالت کے سپریم لیڈر کی گرفتاری وارنٹ کو مسترد کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ شبلی فراز کو دل کی تکلیف
پڑھیں:
پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ: سرکاری اور تعلیمی اداروں میں سیاسی اجتماعات پر پابندی
پشاور ہائیکورٹ نے سرکاری اور تعلیمی اداروں کے احاطے اور آس پاس سیاسی جلسوں، جلوسوں اور دیگر غیر متعلقہ اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتر اور انتظامی عمارتیں صرف اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی، اور کسی بھی سیاسی یا غیر متعلقہ اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اداروں کے احاطے کے مناسب استعمال کی ذمہ داری متعلقہ افسران پر عائد ہے، اور انہیں اداروں کی تقدس اور نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ تعلیمی اور سرکاری اداروں کے ذمہ داران ہر حال میں غیر متعلقہ اجتماعات کی روک تھام کو یقینی بنائیں۔ پانچ صفحات پر مشتمل یہ تحریری فیصلہ جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے جاری کیا۔
قبل ازیں درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری اور تعلیمی اداروں میں اجتماعات کا انعقاد آئین کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہے، اور خیبرپختونخوا میں غیر قانونی اجتماعات کی وجہ سے سرکاری امور اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔