باپ کا لاش لینے سے انکار مگر حمیرا اصغر نے اپنے والد سے متعلق آخری انٹرویو میں کیا کہا تھا؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے گزشتہ روز ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی کئی دن پرانی لاش برآمد ہوئی جس کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا لیکن اداکارہ کے والد نے بیٹی کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چند عرصہ قبل ہی حمیرا سے قطع تعلق کر لیا تھا۔
حمیرا اصغر کی وفات کے بعد ان کا ایک انٹرویو وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ اپنے کیرئیر اور والدین سے متعلق گفتگو کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں کراچی شہر میں رہتی ہوں اور والدین سے مہینہ مہینہ ملنے نہیں جاتی لیکن پھر بھی ان کو پتہ ہوتا ہے کہ میں کون سا ڈرامہ، کون سا پراجیکٹ کر رہی ہوں اور کہاں سفر کر رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کی سپورٹ بہت ضروری ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کی لاش لینے نہیں آؤں گا، حمیرا اصغر کے والد نے ایسا کیوں کہا؟
اداکارہ کا کہنا تھا کہ میری والدہ نے شروع میں مجھے ٹوکا تھا کہ اگر میں تمہارے والد سے بات کروں گی تو وہ برا منائیں گے اور کہیں گے کہ گھر میں سب ڈاکٹر ہیں تو تم کیوں آرٹ کی طرف جا رہی ہو۔
حمیرا اصغر نے کہا کہ شروع میں تو مجھے مشکلات پیش آئیں لیکن جب والدین نے دیکھا کہ مجھ میں ٹیلنٹ ہے۔ میں پینٹنگ اور آرٹ ورک کر رہی ہوں اور اچھا رسپانس مل رہا ہے تو سب ٹھیک ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میں اداکاری کی طرف آئی تو والدہ نے کچھ ڈرامے دیکھے انہوں نے کافی سراہا اور کہا کہ اگر ٹیلنٹ ہے تو ہم اسے کیوں روکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’حمیرا کی موت اس جھوٹی دنیا کا چہرہ ہے جہاں’فالوورز‘ ہوتے ہیں دوست نہیں‘
واضح رہے کہ پولیس کے مطابق حمیرا کے والد اور بھائی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کراچی آنے سے انکار کر دیا۔ ایس ایس پی ساؤتھ مہزورعلی کاکہنا ہےکہ اداکارہ کےوالدکو سمجھایا ہےکہ کراچی آکرلاش وصول کریں تاہم انہوں نےدوبارہ پولیس سے رابطہ نہیں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے حمیرا کی لاش اس وقت چھیپا سرد خانے میں موجود ہے، جہاں ان کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔ کوشش کر رہے ہیں کہ اداکارہ کے گھر والے آجائیں تاکہ کارروائی کو آگے بڑھائیں۔
حمیرا اصغر کی لاش گزشتہ روز کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی، اور مختلف اطلاعات کے مطابق وہ تقریباً ایک ماہ پہلے انتقال کر چکی تھیں۔ ان کی موت کی وجہ تاحال غیر واضح ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حمیرا اصغر حمیرا اصغر موت حمیرا اصغر والد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حمیرا اصغر موت حمیرا اصغر والد انہوں نے کا کہنا کی لاش تھا کہ کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔