نئے چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی تعیناتی کے لیے تلاش کمیٹی کا پہلا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
—جنگ فوٹو
وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیرِ صدارت ایچ ای سی کے نئے چیئرمین کی تعیناتی کے لیے تلاش کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کو ہوا۔
اجلاس میں وزیرِ مملکت وجیہہ قمر، سیکریٹری تعلیم ندیم محبوب اور اراکین نے شرکت کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تعیناتی کا عمل شفاف اور میرٹ پر مبنی ہو گا اور تعیناتی کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا۔
اجلاس میں نئے چیرمین ایچ ای سی کے لیے اشتہار دینے کا فیصلہ نہ ہوسکا، توقع ہے کہ اشتہار کا فیصلہ 16 جولائی 2025 کے اجلاس میں ہو گا۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ شفافیت، میرٹ اور تیز تر کارروائی ہماری ترجیحات ہیں، تعلیم کا معیار بلند کرنے کے لیے قیادت کا درست انتخاب ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔