Jasarat News:
2026-06-03@07:26:56 GMT

تیونس: النہضہ تحریک کے سربراہ راشدالغنوشی کو 14سال قید

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تیونس(مانیٹرنگ ڈیسک)تیونس کی ایک عدالت نے منگل کے روز النہضہ پارٹی کے سربراہ راشد الغنوشی کو “ریاست کے خلاف سازش ” کے مقدمے میں 14 برس قید کی سزا سنا دی۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالت نے اس مقدمے میں ملوث مزید 20 افراد کو سخت سزائیں سنائیں، جن میں نمایاں سیاسی و سیکورٹی شخصیات شامل ہیں۔ ان سزاؤں کی مدت 12 سے لے کر 35 برس تک ہے۔راشد الغنوشی ان ملزمان میں شامل تھے جو اس مقدمے میں پہلے ہی زیر حراست تھے۔ ان کے ہمراہ النہضہ کے سینئر رہنما حبیب اللوز اور سابق انٹیلی جنس چیف محرز الزواری بھی شامل ہیں۔اس کیس میں مطلوب دیگر افراد میں سابق وزیراعظم یوسف الشاہد، صدارتی دفتر کی سابق سربراہ نادیہ عکاشہ، النہضہ کے رہنما رفیق بوشلاکہ اور کئی سیکورٹی و سیاسی شخصیات شامل ہیں جو اس وقت ملک سے باہر مقیم ہیں۔عدالت کے انسداد دہشت گردی کے شعبے سے متعلق فوجداری شعبے نے ان تمام ملزمان پر سنگین الزامات عاید کیے، جن میں ریاست کے داخلی امن کے خلاف سازش، مجرمانہ گروہ کی تشکیل اور دہشت گردی پر اکسانا شامل ہے۔النہضہ تحریک نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایک بیان میں سزاؤں کو مسترد کیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ یہ کیس مخالفین کو دبانے اور آوازیں خاموش کرنے کی ایک منظم مہم کا حصہ ہے، جیسا کہ ان کے بقول، “گمراہ کن اور منظم مہم” جاری ہے۔واضح رہے کہ راشد الغنوشی اپریل 2023ء سے زیر حراست ہیں اور ان پر اس سے قبل بھی متعدد مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ ان میں “انستالینگو” کیس میں 22 برس قید، “لوبیئنگ معاہدوں” کے کیس میں 3 برس قید اور دہشت گردی کی تعریف سے متعلق بیانات پر 15 ماہ قید کی سزائیں شامل ہیں۔مذکورہ کیسز کی تفتیش میں متعدد صحافی، بلاگرز، آزاد پیشہ ور افراد، سیاستدان، الغنوشی کی بیٹی اور داماد رفیق عبدالسلام اور وزارت داخلہ کے سابق ترجمان محمد علی العروی بھی شامل رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شامل ہیں

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان