پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی پائلٹ پروجیکٹ کا عنقریب آغاز، کرپٹو ریگولیشن منظور
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
پاکستان اسٹیٹ بینک (SBP) کے گورنر جمیل احمد نے اعلان کیا ہے کہ مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی کی پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کے قریب ہے اور وہ ورچوئل اثاثوں کے لیے نئی قانون سازی کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے مالیاتی نظام کو جدید بنانا ہے اور کرپٹو کرنسی کے شعبے کو ریگولیٹ کرنا ہے۔
دنیا بھر میں مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال پر غور کر رہے ہیں، اور پاکستان کا یہ قدم چین، بھارت، نائجیریا اور کچھ خلیجی ممالک کے تجربات کے بعد اُٹھایا گیا ہے، جہاں محدود پائلٹ پروگراموں کے ذریعے ڈیجیٹل کرنسی کی جانچ کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے کیا پاکستان کرپٹو کرنسی میں واقعی بھارت کے مقابلے میں آگے نکل گیا ہے؟
سنگاپور میں ریوٹرز نیکسٹ ایشیا سمٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان اس وقت ’مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی‘ پر اپنی صلاحیت بڑھا رہا ہے اور جلد ہی ایک پائلٹ منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک نیا قانون ’ورچوئل اثاثوں کے شعبے کی لائسنسنگ اور ریگولیشن‘ کے لیے بنیاد فراہم کرے گا اور اس کے لیے اسٹیٹ بینک ٹیکنالوجی کے کچھ شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
علاوہ ازیں پاکستان کرپٹو کونسل نے بھی مئی میں واضح کیا تھا کہ ورچوئل اثاثے غیر قانونی نہیں ہیں، تاہم مالی اداروں کو اس وقت تک ان سے متعلق کوئی لین دین کرنے سے روکا گیا جب تک ایک باقاعدہ لائسنسنگ فریم ورک مکمل نہیں ہو جاتا۔
یہ بھی پڑھیے فیکٹ چیک: کیا حکومت روایتی کرنسی کو ختم کرکے ڈیجیٹل کرنسی لارہی ہے؟
اںہون نے کہا کہ حکومت نے ’ورچوئل اثاثے ایکٹ، 2025‘ کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ایک آزاد ریگولیٹر قائم کیا جائے گا جو کرپٹو سیکٹر کی نگرانی اور لائسنسنگ کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کرپٹو مارکیٹ میں اپنے کردار کو مضبوط کرنے کے لیے بین الاقوامی کرپٹو شخصیات اور کمپنیوں سے تعاون بڑھا رہا ہے۔
پاکستان کا یہ اقدام ایک طرف جہاں کرپٹو کرنسی کے شعبے کو ریگولیٹ کرنے کا اشارہ دیتا ہے، وہیں یہ ملک کے مالیاتی نظام میں جدیدیت لانے کی ایک اہم کوشش بھی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو ریگولیشن گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو ریگولیشن گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد ڈیجیٹل کرنسی رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند