آبادی میں اضافہ کی شرح تشویشناک ہے، قوم کو مل کر اس اہم مسئلہ کے حوالہ سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 جولائی2025ء) وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ آبادی میں اضافہ کی شرح تشویشناک ہے، پارلیمنٹیرینز، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سمیت پوری قوم کو مل کر اس اہم مسئلہ کے حوالہ سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ جمعرات کو یہاں عالمی یوم آبادی کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیمینار میں تمام جماعتوں کے نمائندوں کی شرکت سے اس معاملہ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ایک اہم قومی مسئلہ ہے، آبادی میں اضافہ کی وجہ سے وسائل پر دبائو بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1950ء سے اب تک پاکستان کی آبادی میں سات گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر آبادی میں بے انتہاء اضافہ کی وجہ سے ہمارے ملک کی ہیئت اور ساخت ہی بدل چکی ہے، جن دیہاتوں میں ہمیں پہلے کھیت نظر آتے تھے اب وہاں پر ہائوسنگ سوسائٹیوں کے بورڈ لگے ہوئے ہیں، یہ صورتحال آبادی میں اضافہ کی وجہ سے سامنے آ رہی ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ کئی ترقی یافتہ ممالک نے آبادی میں اضافہ کو کنٹرول کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کئے جس کی وجہ سے ان کی آبادی کم ہو گئی تھی اب وہی ملک آبادی میں اضافہ کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ کو روکنے کیلئے سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹیرینز کا کردار سب سے اہم ہے، سوشل میڈیا پر ہر طرح کی بات ہو رہی ہے مگر آبادی میں اضافہ کے حوالہ سے وہاں بھی خاموشی ہے، اسی طرح ٹی وی ٹاک شوز میں ہر موضوع پر بات کی جاتی ہے مگر آبادی میں اضافہ پر کوئی بات نہیں کرتا۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ملک میں نوجوانوں کی تعداد کا تناسب آبادی کے 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے جبکہ سینئر سٹیزن کی تعداد کم ہو رہی ہے کیونکہ ہمارے پاس طبی سہولیات نہیں ہیں، جو نوجوان سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک اور دوسری سرگرمیوں میں اپنے آپ کو مصروف رکھے ہوئے ہیں انہیں بھی آبادی میں اضافہ کی شرح کو کنٹرول کرنے کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے۔ سیمینار کے انعقاد کے حوالہ سے انہوں نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم موضوع پر سیمینار کا انعقاد ایک قابل قدر کاوش ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے آبادی میں اضافہ کی انہوں نے کہا کہ کے حوالہ سے کی وجہ سے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔