’سدھرا پنجاب‘ مہم شروع، اب کسی چور اور ڈاکو کو آزادی نہیں، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
پنجاب کی وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے صوبے میں ’سدھرا پنجاب‘ مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ا ور کہا ہےکہ اب کسی چور اور ڈاکو کو آزادی نہیں ہوگی۔
وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ کچھ گروہ پروپیگنڈا اور فیک نیوز پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ مریم نواز کے دور حکومت کی کوئی آڈٹ رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے یوٹیوبرز نے پاک بھارت جنگ کے دوران بھی اشتعال انگیزی اور فساد پھیلانے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز کے دور میں شفافیت ایک ٹریڈ مارک کی صورت میں نظر آیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت نے کسانوں کے نام پر گندم ذخیرہ کر کے پیسہ بنایا۔
صوبائی وزیر نے پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں جرائم کی شرح میں 68 فیصد کمی آئی ہے اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی جرائم میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ چکوال، بھلوال اور حافظ آباد میں 2 دنوں کے دوران کوئی واردات نہیں ہوئی، اور پنجاب کے کئی شہروں کو بین الاقوامی سطح پر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پنجاب حکومت کے اقدامات کی تفصیل دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب بھر سے ایک ہزار 509 اشتہاریوں کو گرفتار کیا گیا اور 614 بچوں کو ملزمان سے بازیاب کرایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب میں اب کسی چور اور ڈاکو کو آزادی نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ امن وامان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں پنجاب حکومت کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے نئے اقدام ’سدھرا پنجاب‘ کے آغاز کا اعلان کیا اور کہا کہ سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ) کو ایف بی آئی کی طرز پر صوبائی محکمہ بنایا گیا ہے۔ سی سی ڈی نے 1500 سے زائد اشتہاریوں کو گرفتار کیا ہے اور اس کی تحقیقات کو حتمی سمجھا جاتا ہے۔
وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت نے یوم عاشورہ کے دوران سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے اور مختلف مسالک کے لوگوں نے بہترین مذہبی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ روز ایک وفد نے وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے امن ایوارڈ دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سدھرا پنجاب عظمیٰ بخاری مریم نواز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف پنجاب حکومت کے دوران انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔