اسرائیل غزہ میں مسقتل جنگ بندی پر بھی آمادہ، شرائط کیا رکھی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں مستقل جنگ بندی بھی ہوسکتی ہے تاہم اس کے لیے حماس کو کچھ شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی ماہر فرانچیسکا البانیز کو امریکی پابندیوں کا سامنا، اسرائیلی مظالم کی نشاندہی ’جرم‘ ٹھہری
العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے ساتھ 2 ہفتوں میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ ہوسکتا ہے تاہم یہ ایک دن میں ممکن نہیں۔
وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے دوران ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے جمعرات کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگر دونوں فریق 60 دن کی جنگ بندی کے مجوزہ منصوبے پر متفق ہو گئے تو اسرائیل ایک مستقل جنگ بندی کی تجویز پیش کرے گا جس کی شرط یہ ہو گی کہ حماس اپنے ہتھیار ڈال دے۔
عہدیدار نے کہا کہ لیکن اگر حماس نے اس سے انکار کیا تو اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی تازہ ترین گفتگو میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ غزہ میں معاہدے کا موقع موجود ہے اور یہ یا تو اسی ہفتے یا اگلے ہفتے کے دوران رو بہ عمل ہوجائے گا۔
صدر ٹرمپ نے ان خبروں پر بھی تبصرہ کیا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی، اسرائیلی اور قطری حکام کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ایک خفیہ ملاقات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل اہمیت معاہدے کے حصول کی ہے اور وہ معاہدہ قریب ہے۔
مزید پڑھیے: اسرائیلی محاصرہ ختم نہ ہوا تو طبی مراکز جلد قبرستانوں میں تبدیل ہوجائیں گے، اسپتالوں کی دہائی
اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے امکانات روشن ہیں اور اب یہ معاہدہ قریب تر ہو چکا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مجوزہ معاہدہ 2 ماہ کے لیے ہو گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حماس ہی غزہ کے عوام کو بھوکا مارنے کی ذمے دار ہے اور اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے وہ اپنے دفاع کے تحت کر رہا ہے۔
دریں اثنا امریکی ایلچی کا کہنا ہے کہ متوقع معاہدے میں 60 دن کی جنگ بندی شامل ہو گی اور اس کے علاوہ 10 زندہ یرغمالیوں کی رہائی اور 9 ہلاک شدگان کی باقیات کی واپسی بھی اس میں شامل ہو گی۔
ترمب: التوصل لاتفاق لوقف إطلاق النار في غزة بات قريبا#أخبار_الصباح #قناة_العربية pic.
— العربية (@AlArabiya) July 10, 2025
یہ تنازع اکتوبر 2023 میں اس وقت شروع ہوا جب حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا جس میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 50 افراد اب بھی غزہ میں قید ہیں۔ گمان کیا جا رہا ہے کہ ان 50 میں سے 20 اب بھی زندہ ہیں۔
مزید پڑھیں: کھانا اور ادویات لینے آئے بیمار بچوں و خواتین پر اسرائیلی فوج کا حملہ، 15 افراد شہید
دوسری جانب اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کی گئی جنگی کارروائیوں میں 57 ہزار سے زائد شہید ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں غزہ کی اکثریتی آبادی بے گھر ہو چکی ہے اور 5 لاکھ افراد قحط کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اسرائیلی فوج اسپتالوں کا محاصرہ کیے ہے اور غذائی امداد ملنے کے مراکز پر بھی اس کے حملے جاری ہیں جن کے سبب ایک طرف بیمار بغیر علاج مر رہے ہیں جبکہ بھوک سے بدحال لوگ کھانے کی جگہ اسرائیلی فوج کی چلائی جانے والی گولیاں و گولہ بارود کھا کر جان گنوا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اسرائیل حماس سیزفائر اسرائیل حماس مستقل جنگ بندی حماس صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین نیتن یاہو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیل حماس سیزفائر اسرائیل حماس مستقل جنگ بندی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین نیتن یاہو کا کہنا ہے اور
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں