ہوم ایپلائنس کی بڑی کمپنیوں کے خلاف کمپٹیشن کمیشن کا فیصلہ برقرار
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر) کمپٹیشن ایپلیٹ ٹربیونل نے ہوم ایپلائنسس بنانے والی معروف کمپنیوں کے خلاف کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ، کمپنیوں کو، 9 کروڑ روپے جرمانے کی رقم 30 دن کے اندر قومی خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔ ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں اس بات کی توثیق کی کمپنیوں نے اپنے ڈسٹری بیوٹرز پر ری سیل پرائس مینٹیننس یعنی صارفین کو فروخت کی قیمت کو فکس کر کے اور اس حوالے سے ڈسٹری بیوٹرز پر شرائط عائد کر کے کمپٹیشن کے قانون کی خلاف ورزی کی۔کمپٹیشن کمیشن نے دو بڑی کمپنیوں پر اپنے ڈیلرز کو متعین قیمت سے کم پر مصنوعات فروخت کرنے، صارف کو اپنے منافع میں سے رعایت دینے یا پیکج آفرز دینے سے روکا، اور ڈیلرز پر سخت شرائب بھی عائد کیں، جس پر کمیشن نے ان کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائے کئے تھے۔ٹربیونل میں اپنے دفاع میں، کمپنیوں نے قانون کی خلاف ورزی کئے جانے کو چیلنج نہیں کیا، بلکہ موقف اختیار کیا کہ کمیشن کی طرف سے عائد کردہ جرمانے کی رقم بہت زیادہ ہے۔ ٹربیونل نے نوٹ کیا کہ اپیل کنندگان نے قیمتوں کے تعین کی پالیسی کے تحت ڈیلرز پر عائد کردہ رقوم انہیں واپس کر کے تلافی کی کوشش کی ہے اور آئندہ قانون کی مکمل پابندی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔کمپنیوں کے اس تعاون پر مبنی رویے اور متاثرہ فریقین کو ادائیگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے، ٹربیونل نے دونوں کمپنیوں پر عائد جرمانوں میں کمی کا فیصلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹربیونل نے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔