data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر) کمپٹیشن ایپلیٹ ٹربیونل نے ہوم ایپلائنسس بنانے والی معروف کمپنیوں کے خلاف کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ، کمپنیوں کو، 9 کروڑ روپے جرمانے کی رقم 30 دن کے اندر قومی خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔ ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں اس بات کی توثیق کی کمپنیوں نے اپنے ڈسٹری بیوٹرز پر ری سیل پرائس مینٹیننس یعنی صارفین کو فروخت کی قیمت کو فکس کر کے اور اس حوالے سے ڈسٹری بیوٹرز پر شرائط عائد کر کے کمپٹیشن کے قانون کی خلاف ورزی کی۔کمپٹیشن کمیشن نے دو بڑی کمپنیوں پر اپنے ڈیلرز کو متعین قیمت سے کم پر مصنوعات فروخت کرنے، صارف کو اپنے منافع میں سے رعایت دینے یا پیکج آفرز دینے سے روکا، اور ڈیلرز پر سخت شرائب بھی عائد کیں، جس پر کمیشن نے ان کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائے کئے تھے۔ٹربیونل میں اپنے دفاع میں، کمپنیوں نے قانون کی خلاف ورزی کئے جانے کو چیلنج نہیں کیا، بلکہ موقف اختیار کیا کہ کمیشن کی طرف سے عائد کردہ جرمانے کی رقم بہت زیادہ ہے۔ ٹربیونل نے نوٹ کیا کہ اپیل کنندگان نے قیمتوں کے تعین کی پالیسی کے تحت ڈیلرز پر عائد کردہ رقوم انہیں واپس کر کے تلافی کی کوشش کی ہے اور آئندہ قانون کی مکمل پابندی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔کمپنیوں کے اس تعاون پر مبنی رویے اور متاثرہ فریقین کو ادائیگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے، ٹربیونل نے دونوں کمپنیوں پر عائد جرمانوں میں کمی کا فیصلہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹربیونل نے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن