فضائی آلودگی دماغی صحت کےلیے بھی خطرہ، نئی تحقیق میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ آلودہ ہوا میں سانس لینا نہ صرف پھیپھڑوں بلکہ دماغی صحت کےلیے بھی سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
ڈینش کینسر انسٹیٹیوٹ کی جانب سے کی گئی اس تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی کے مخصوص اجزاء دماغ میں غیر کینسر زدہ ٹیومر (میننگیوما) کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر اولا ہیوڈفلڈ نے بتایا کہ ٹریفک سے نکلنے والے نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور انتہائی باریک ذرات (پارٹیکیولیٹ میٹر) جیسے آلودہ عناصر دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ’’یہ انتہائی باریک ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ خون اور دماغ کے درمیان موجود حفاظتی رکاوٹ کو بھی عبور کرسکتے ہیں، جو براہ راست دماغ کے بافتوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔‘‘
جرنل نیورولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ طویل عرصے تک فضائی آلودگی کے ماحول میں رہتے ہیں، ان میں میننگیوما ٹیومر کے امکانات دیگر افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ ٹیومر اگرچہ کینسر زدہ نہیں ہوتے، لیکن دماغ پر دباؤ ڈال کر سنگین طبی مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں رہنے والے افراد خاص طور پر اس خطرے سے دوچار ہیں، جہاں ٹریفک سے نکلنے والی آلودگی کی مقدار کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
ڈاکٹر ہیوڈفلڈ نے زور دیا کہ ’’ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹریفک اور دیگر ذرائع سے ہونے والی فضائی آلودگی کا طویل مدتی اثر نہ صرف نظام تنفس بلکہ اعصابی نظام کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔‘‘
اس تحقیق نے شہری منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے ایک نئی تشویش پیدا کردی ہے، جو اب تک فضائی آلودگی کے اثرات کو بنیادی طور پر پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں تک محدود سمجھتے تھے۔ ماہرین صحت اب شہریوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ فضائی آلودگی کے زیادہ اوقات میں باہر نکلنے سے گریز کریں اور ممکنہ حد تک صاف ہوا والے ماحول میں وقت گزارنے کی کوشش کریں۔
یہ تحقیق خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کےلیے اہم ہے جہاں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں، کیونکہ اب یہ صرف پھیپھڑوں کی بیماری تک محدود مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ دماغی صحت کو بھی براہ راست متاثر کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فضائی آلودگی کے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ