بحری ترقی میں نجی شعبے کا کردار قابل تحسین ہے، وفاقی وزیر بحری امور
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
بحری ترقی میں نجی شعبے کا کردار قابل تحسین ہے، وفاقی وزیر بحری امور WhatsAppFacebookTwitter 0 11 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی )کے صدر عاطف اکرام شیخ کی قیادت میں وفد نے وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری سے ملاقات کی۔
وفد میں چیئرمین پی سی ایم اے شیخ عمر ریحان، ملک سہیل حسین اور کنور قطب الدین خان شامل تھے۔
ملاقات میں پورٹس کی کارکردگی، انفراسٹرکچر میں بہتری، بلیو اکانومی، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بحری ترقی اور ملکی معیشت میں نجی شعبے کا کردار اہم ہے۔ بحری تجارت اور اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے تاجروں کے تحفظات کو دور کیا جائے گا۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے بندرگاہوں پر بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور کہا کہ مضبوط معیشت اور بحری ترقی کے لیے ان مسائل کا حل ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کے لیے سمندری تجارت کا بہترین راستہ ہے۔ بندرگاہوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری اور بحری تجارت کے فروغ سے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے جدید مشینری کی تنصیب کے ذریعے کسٹمز کلیئرنس کے وقت میں کمی کے لیے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعافیہ صدیقی کیس؛ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا عندیہ اپوزیشن کے 26معطل ارکان کی نااہلی ریفرنس پر اسپیکر پنجاب سے ملاقات عمران خان کے بیٹوں کا پاکستان آنے کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا سپریم کورٹ کا پی ٹی سی ایل پنشنرز کے حق میں فیصلہ ، 90 دن میں ادائیگی کا حکم شاہ محمود قریشی کی 9 مئی کے کیس میں بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس ریکارڈ سطح پر، ڈالر سستا ہوگیا صدر، وزیراعظم کی مسافروں کے قتل کی مذمت، فتنہ الہندوستان کے خاتمے کا عزمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔