بھارت، انگلینڈ ٹیسٹ: لارڈز میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کی وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے جا رہے سیریز کے تیسرے ٹیسٹ کے دوران لارڈز کے گراؤنڈ میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے گراؤنڈ میں داخلے ہونے والے تماشائیوں کی سخت تلاشی لی جا رہی ہے جبکہ اسٹینڈز میں خفیہ سیکورٹی گارڈز بھی تعنیات ہیں۔
بھارت اور انگلینڈ کا حالیہ مقابلہ سب سے بڑا مقابلہ ہے جس کے سبب شائقین کی جانب سے خطرہ موجود ہے۔ تقریباً 2سال قبل اس وینیو پر ایشز میچ کا مقابلہ ہوا تھا۔
ایشز کے دوران ایم سی سی ممبران نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کو برا بھلا کہا تھا جس کے سبب اس مرتبہ حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ تیسرے ٹیسٹ کے لیے ابتدائی چار دنوں کے ٹکٹس میچ سے قبل ہی فروخت ہو گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔