واٹس ایپ کالز میں نیا فیچر شامل، رابطے مزید آسان اور دل چسپ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واٹس ایپ، جو دنیا بھر میں مقبول ترین میسجنگ ایپس میں سے ایک ہے، صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل نئے فیچرز پر کام کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ایک نیا اور دلچسپ فیچر متعارف کرایا جا رہا ہے جس کا تعلق وائس اور ویڈیو کالز سے ہے۔
اس نئے فیچر کے تحت اب صارفین کال کے دوران ایموجیز کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کر سکیں گے، بالکل اسی طرح جیسے چیٹ یا وائس میسجز پر ری ایکشنز دیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے اس فیچر کو ابھی ابتدائی طور پر اپنے بیٹا ورژن میں متعارف کرایا ہے، اور فی الحال یہ صرف محدود صارفین کے لیے دستیاب ہے۔ تاہم، یہ واضح کیا گیا ہے کہ کال کے دوران استعمال کیے گئے ایموجیز کے لیے ایک الگ “ریسنٹ ری ایکشنز” کا سیکشن بھی دستیاب ہوگا، تاکہ صارفین اپنی پسندیدہ ایموجیز آسانی سے دوبارہ منتخب کر سکیں۔
اگرچہ یہ فیچر ابھی آزمائشی مرحلے میں ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ واٹس ایپ آئندہ دنوں میں اسے مزید بہتر بنا کر تمام صارفین کے لیے جاری کرے گا۔ البتہ، یہ فی الحال نہیں کہا جا سکتا کہ یہ عام صارفین کو کب تک دستیاب ہوگا۔
یہ فیچر ان صارفین کے لیے خاص طور پر دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے جو کالز کے دوران اپنے احساسات اور ردعمل کو بغیر بولے ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صارفین کے واٹس ایپ کے لیے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔