پاک بحریہ میں عسکری اعزازات تفویض کرنے کی تقریب، چیف آف نیول سٹاف کی بطور مہمان خصوصی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
راولپنڈی( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاک بحریہ کے آفیسرز، سی پی اوز/سیلرز اور سویلینز کو عسکری اعزازات تفویض کرنے کی تقریب کا انعقاد ہوا ۔چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف تقریب کے مہمان خصوصی تھے ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب میں 13 افسران کو ستارۂ امتیاز (ملٹری) اور 11 افسران کو تمغہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔ 183 ماسٹرچیف پیٹی آفیسرز، چیف پیٹی آفیسرز اور سیلرز کو تمغہ خدمت (ملٹری) کلاس II, l اور III تفویض کیے گئے۔ 60 آفیسرز، ماسٹرچیف پیٹی آفیسرز، چیف پیٹی آفیسرز/سیلرز اور سویلینز کو چیف آف دی نیول سٹاف کی جانب سے ستائشی اسناد سے بھی نوازا گیا۔
پولیس اہلکار اور رینجرز اہلکار کے درمیان لڑائی میں فائرنگ سے پولیس اہلکار جاں بحق
تقریب میں پاک بحریہ کے سینئر، حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں ،آخری حد تک تعاقب کیا جائے گا: وزیر اعلیٰ بلوچستان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔