اے این پی رہنماء مولانا خانزیب کی شہادت حکومتی رٹ پر سوالیہ نشان ہے، حافظ نعیم الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
بیان میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ باجوڑ ایک مرتبہ پھر قاتلوں کے رحم و کرم پر ہے، اے این پی علماء کونسل کے سربراہ مولانا خانزیب کی شہادت انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت واقعہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے باجوڑ فائرنگ واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اس میں جاں بحق ہونے والے اے این پی رہنماء مولانا خانزیب اور ان کے ساتھی کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے اور منصورہ سے جاری بیان میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ باجوڑ ایک مرتبہ پھر قاتلوں کے رحم و کرم پر ہے، اے این پی علماء کونسل کے سربراہ مولانا خانزیب کی شہادت انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت واقعہ ہے، تواتر کے ساتھ اس طرح کے واقعات اور قیمتی جانوں کا ضیاع حکومتی رٹ پر سوالیہ نشان ہے، وفاقی، صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل ناکام ہیں۔
انہوں نے افسوسناک واقعہ میں زخمی افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور مرحومین کے لواحقین اور اے این پی قیادت سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ریاست و حکومت کی اولین ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں، سندھ اور پنجاب کے حالات بھی کسی صورت تسلی بخش نہیں، عوام خوف و بے یقینی کا شکار اور مہنگائی و بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں ملک میں قیام امن کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا خانزیب اے این پی
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔