پاکستان میں BMW گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کی کمی
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
کراچی(کامرس ڈیسک) پاکستان میں لگژری کارز پر خریداری کا جو دیرینہ خواب اکثر دور ہی رہ جاتا تھا، اب وہ زیادہ ممکن نظر آنے لگا ہے۔ Diwan Motors نے اعلان کیا ہے کہ BMW گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک بڑی کمی کی گئی ہے، اور اسی دوران حکومتی وفاقی بجٹ 2025‑26 میں کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ٹیکس میں چھوٹ دینے کا اقدام بھی سامنے آیا ہے۔
قیمتوں میں کتنی کمی؟ ماڈل وار تفصیل
نئے ریویژن کے تحت پیٹرول اور پلگ ان ہائبرڈ (PHEV) ماڈلز دونوں پر قیمتیں کم کی گئی ہیں۔ چند اہم ماڈلز اور ان کی قیمتوں کا فرق درج ذیل ہے:
قیمتوں میں کتنی کمی؟ ماڈل وار تفصیل
نئے ریویژن کے تحت پیٹرول اور پلگ ان ہائبرڈ (PHEV) ماڈلز دونوں پر قیمتیں کم کی گئی ہیں۔ چند اہم ماڈلز اور ان کی قیمتوں کا فرق درج ذیل ہے:
| BMW 218 GC (Petrol) | 3 کروڑ 32 لاکھ | – 45 لاکھ | 2 کروڑ 88 لاکھ |
| BMW X7 M60i xDrive (Petrol) | 18 کروڑ 68 لاکھ | – 4 کروڑ 79 لاکھ | 13 کروڑ 90 لاکھ |
دیگر ماڈلز جیسے BMW M2، M4، M5 PHEV، X5 50e وغیرہ میں بھی تقریباً کروڑوں روپے تک کمی دیکھی گئی ہے۔
کیا یہ کمی صرف BMW تک محدود ہے؟
نہیں۔ یہ قیمتوں میں کمی حکومت کے نئے بجٹ میں درآمدی پالیسیوں میں واضح تبدیلی کے نتیجے میں ہے۔ حکومت نے:
Additional Customs Duty (ACD) کو 7% سے 6% کیا
Regulatory Duty (RD) گاڑیوں پر مقررہ کیپیسیٹی کے مطابق کم کردی
4×4 SUVs پر درجہ وار RD کی شرح ڈرامائی طور پر گھٹائی گئی
ان تبدیلیوں نے بی ایم ڈبلیو سمیت دیگر لگژری برانڈز کی قیمتوں کو عوامی دسترس کے قریب لانے میں مدد کی ہے۔
خریداروں اور مارکیٹ میں ردعمل
یہ قیمتوں میں کمی لگژری کار خریدنے والے صارفین کے لیے خوش آئند ثابت ہو سکتی ہے، لیکن ماہرین اقتصادیات نے بعض تحفظات بھی اٹھائے ہیں:
اس برانڈ کے صارفین کا حصہ محدود ہے
ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ سے مقامی قیمتوں پر اثر پڑتا رہتا ہے
مقامی اسمبلی کی گاڑیوں (جیسے Suzuki، Honda) میں اضافے کے باعث فرق بڑھا ہے
BMW پاکستان قیمتوں میں کمی: کیا فائدہ یا نقصان؟
فوائد:
لگژری گاڑیوں تک رسائی میں اضافہ
درآمدی منڈی میں مقامی صنعت کو مسابقتی دباؤ
صارفین کے لیے خریداری کی تیز تر صلاحیت
ممکنہ چیلنجز:
ٹریڈ مارکیٹ میں دوسرے برانڈز کی قیمتیں متاثر
ٹیکس آمدنی میں کمی کا امکان
اقتصادی عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے
مستقبل کی حکمت عملی: کیا توقع کی جا سکتی ہے؟
حکومت اگر واقعی درآمدی پالیسیوں کو شفاف اور منظم رکھے، تو:
کار مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا
ڈیلرشپس پر ریٹنگ اور استعمال میں اضافہ ہوگا
صارفین کو بہتر فنانسنگ اور فائدہ مند لین دین میسر آئے گا
اسی وقت اگر درآمدی گاڑیوں پر مزید شرحِ ٹیکس کاهش دی جاتی ہے، تو مارکیٹ میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔
BMW پاکستان قیمتوں میں کمی سے نئی امید؟
یہ قیمتوں میں کمی ایک بڑی پیش رفت ہے، جو BMW کے شائقین کے لیے خوشخبری لاتی ہے۔ لیکن اس سے بھی اہم ہے کہ آیا حکومت اقتصادی مساوات، درآمدی توازن اور صارفین کے حقوق کو برقرار رکھ سکتی ہے یا نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قیمتوں میں کمی مارکیٹ میں کی قیمتوں سکتی ہے
پڑھیں:
سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔