طالبان رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کا انسانی حقوق ماہرین کی طرف سے خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 12 جولائی 2025ء) انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے طالبان رہنماؤں ہیبت اللہ اخوند زادہ اور عبدالحکیم حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا خیرمقدم کیا ہے جن کے خلاف صنفی اور سیاسی بنیاد پر انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں شخصیات کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونا افغانستان کے لوگوں بالخصوص وہاں کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے انصاف کی جانب ایک اہم قدم ہے جو تقریباً چار سال سے طالبان کی صنفی تفریق، جبر اور مظالم کا سامنا کر رہی ہیں۔
Tweet URLانہوں نے کہا ہے کہ عدالت کے اس اقدام کا مطلب یہ بھی ہے کہ جرم کا ارتکاب کرنے والا کوئی بھی شخص قانون کی گرفت سے ہمیشہ کے لیے نہیں بچ سکے گا۔
(جاری ہے)
افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی کا سامنا کرنے والے لوگوں کے لیے یہ اقدام اس امر کی طاقتور توثیق ہے کہ عالمی برادری انہیں دیکھ اور سن رہی ہے اور ان کی بات پر یقین رکھتی ہے۔عدالتی آزادی ضروریماہرین نے میثاق روم کے ریاستی فریقین کو ان کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دونوں افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مدد کرنی چاہیے اور اس معاملے میں عدالت کے لیے سیاسی، سفارتی اور مالیاتی تعاون میں اضافہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا ہے کہ 'آئی سی سی' احتساب کے وسیع تر نظام کا ایک اہم ستون ہے جو سنگین ترین بین الاقوامی جرائم پر محاسبہ یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تمام ممالک بالخصوص عدالت کے رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ میثاق روم کے تحت 'آئی سی سی' اور اس کی آزادی کو تحفظ اور مدد فراہم کریں۔
تاریخ کی غلط سمتماہرین نے ملک میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور بین الاقوامی جرائم پر احتساب کو یقینی بنانے کی غرض سے دیگر اقدامات کے لیے پائیدار اور مضبوط تعاون کے لیے بھی کہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں انسانی حقوق پر مبنی ایک اصولی اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ وارنٹ گرفتاری سے رکن ممالک کو واضح پیغام جانا چاہیے کہ کسی حکومت کو اپنے ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کے بنیادی حقوق اور وقار کو سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جو لوگ طالبان کے ان اقدامات کو جائز قرار دیتے ہیں وہ تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے ہیں۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کارغیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ماہرین نے کہا ہے کہ کے لیے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔