تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھول دیے گئے، دریائے سندھ کے کنارے سیلاب کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافے کے بعد گزشتہ روز اس کے اسپل ویز کھول دیے گئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے سندھ کے کنارے ممکنہ سیلاب کے خدشے کے پیشِ نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق، سپل ویز کے ذریعے پانی کے اخراج سے دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا، جس کی مقدار 2,60,000 سے 2,70,000 کیوسک تک پہنچنے کی توقع ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور دریائے سندھ کے کنارے رہنے والی مقامی آبادی پر کڑی نظر رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں: این ڈی ایم اے اور صوبائی ادارے فوری ایکشن میں آ جائیں، سیلابی خطرے پر تیاری مکمل رکھی جائے، وزیراعظم
حکام نے خبردار کیا ہے کہ پانی کے بہاؤ میں اضافے کی وجہ سے دریا کے ساتھ واقع نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
دریائے سندھ کے قریب رہنے والے افراد، خصوصاً ماہی گیر اور مویشی پالنے والوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں ہیلپ لائن 1700 پر فوری رابطہ کریں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں مون سون کی بارشوں کا نیا سلسلہ، سیلاب کی وارننگ جاری
کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے ڈپٹی کمشنر نوشہرہ عرفان اللہ محسود نے لوگوں کو دریائے سندھ کے کنارے جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، ضلعی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اسپل ویز دوپہر 12:30 بجے کھولے گئے۔
خصوصی اپیل کی گئی ہے کہ کنڈ، خیرآباد، جبی مندوری، شوئنگی، ماماخیل، کہی اور دیگر قریبی علاقوں کے رہائشی دریا سے دور رہیں، کیونکہ یہ اقدام انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ادھر، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے 13 اور 14 جولائی کو ہونے والی بارشوں کے باعث دریائے کابل اور دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب اور پانی کے بہاؤ میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔
مزید پڑھیں: مون سون بارشوں کا اگلا خطرناک سلسلہ کیا تباہی لا سکتا ہے؟ محکمہ موسمیات نے خبردار کر دیا
این ڈی ایم اے کے مطابق، نوشہرہ میں دریائے کابل میں کم سطح کے سیلاب کا امکان ہے، اسی طرح دریائے سوات، پنجکوڑا اور برساتی نالوں میں بھی پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔
متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور بارشوں کے دوران ندی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عوام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ این ڈی ایم اے کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں تاکہ ضرورت کے وقت مدد اور رہنمائی حاصل کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپل ویز این ڈی ایم اے پی ڈی ایم اے تربیلا ڈیم دریائے سندھ دریائے سوات دریائے کابل ماہی گیر مویشی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپل ویز این ڈی ایم اے پی ڈی ایم اے تربیلا ڈیم دریائے سندھ دریائے سوات دریائے کابل ماہی گیر مویشی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :