تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافے کے بعد گزشتہ روز اس کے اسپل ویز کھول دیے گئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے سندھ کے کنارے ممکنہ سیلاب کے خدشے کے پیشِ نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق، سپل ویز کے ذریعے پانی کے اخراج سے دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا، جس کی مقدار 2,60,000 سے 2,70,000 کیوسک تک پہنچنے کی توقع ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور دریائے سندھ کے کنارے رہنے والی مقامی آبادی پر کڑی نظر رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں: این ڈی ایم اے اور صوبائی ادارے فوری ایکشن میں آ جائیں، سیلابی خطرے پر تیاری مکمل رکھی جائے، وزیراعظم

حکام نے خبردار کیا ہے کہ پانی کے بہاؤ میں اضافے کی وجہ سے دریا کے ساتھ واقع نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

دریائے سندھ کے قریب رہنے والے افراد، خصوصاً ماہی گیر اور مویشی پالنے والوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔

پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں ہیلپ لائن 1700 پر فوری رابطہ کریں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں مون سون کی بارشوں کا نیا سلسلہ، سیلاب کی وارننگ جاری

کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے ڈپٹی کمشنر نوشہرہ عرفان اللہ محسود نے لوگوں کو دریائے سندھ کے کنارے جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، ضلعی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اسپل ویز دوپہر 12:30 بجے کھولے گئے۔

خصوصی اپیل کی گئی ہے کہ کنڈ، خیرآباد، جبی مندوری، شوئنگی، ماماخیل، کہی اور دیگر قریبی علاقوں کے رہائشی دریا سے دور رہیں، کیونکہ یہ اقدام انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔

ادھر، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے 13 اور 14 جولائی کو ہونے والی بارشوں کے باعث دریائے کابل اور دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب اور پانی کے بہاؤ میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔

مزید پڑھیں: مون سون بارشوں کا اگلا خطرناک سلسلہ کیا تباہی لا سکتا ہے؟ محکمہ موسمیات نے خبردار کر دیا

این ڈی ایم اے کے مطابق، نوشہرہ میں دریائے کابل میں کم سطح کے سیلاب کا امکان ہے، اسی طرح دریائے سوات، پنجکوڑا اور برساتی نالوں میں بھی پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔

متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور بارشوں کے دوران ندی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عوام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ این ڈی ایم اے کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں تاکہ ضرورت کے وقت مدد اور رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپل ویز این ڈی ایم اے پی ڈی ایم اے تربیلا ڈیم دریائے سندھ دریائے سوات دریائے کابل ماہی گیر مویشی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپل ویز این ڈی ایم اے پی ڈی ایم اے تربیلا ڈیم دریائے سندھ دریائے سوات دریائے کابل ماہی گیر مویشی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود