نمبر پلیٹس کی آڑ میں کرپشن کیخلاف جماعت اسلامی کی ’’بائیک ریلی ‘‘آج ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کراچی کے تحت سندھ حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل و گاڑی کی نمبرپلیٹ کی تبدیلی کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کے خلاف آج شام 5بجے فائیواسٹار چورنگی تا فریسکو چوک ’’بائیک ریلی ‘‘ ہوگی ۔ ریلی کی قیادت امیرجماعت اسلامی کراچی منعم طفر خان کریں گے ۔منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کی تبدیلی کے نام پر عوام سے جبری پیسے بٹورنے کی اسکیم سراسر کرپشن اور عوام کے معاشی استحصال کی بدترین مثال ہے۔ جماعت اسلامی کراچی اس ظالمانہ اقدام کے خلاف عوام کی آواز بن کر کھڑی ہے اور آج فائیو اسٹار چورنگی سے فریسکو چوک تک ہونے والی بائیک ریلی اسی جدوجہد کا حصہ ہے۔سندھ حکومت نے پہلے ہی شہریوں کو بدترین مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری اور تباہ حال انفرا اسٹرکچر کا تحفہ دیا ہے، اب جبری نمبر پلیٹس کے نام پر اضافی بوجھ ڈال کر عوام کو مزید مشکلات میں دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ نمبر پلیٹ مہم ایک نیا’’ٹھیکا مافیا‘‘متعارف کرانے کی کوشش ہے جس کا مقصد سرکاری پیسے کو لوٹ مار کے ذریعے مخصوص جیبوں میں منتقل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی شروع دن سے ہی عوامی مسائل کے خلاف میدان عمل میں ہے۔ ہم نے کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ، اوور بلنگ، پانی کی قلت، ٹرانسپورٹ بحران، قبضہ مافیا، بلدیاتی اختیارات کی غیر منصفانہ تقسیم اور سڑکوں کی خستہ حالی سمیت ہر مسئلے پر بھرپور آواز بلند کی ہے اور ہر فورم پر عوامی نمائندگی کی ہے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی اس کرپٹ نظام اور جبری اقدامات کے خلاف اپنی آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ ’’بائیک ریلی ‘‘میں بھرپور شرکت کریں اور کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی کا ساتھ دیں تاکہ سندھ حکومت کو یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ کراچی کے شہری بیدار ہیں، اور وہ مزید ظلم برداشت نہیں کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی سندھ حکومت بائیک ریلی کے خلاف
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔