Jasarat News:
2026-07-24@07:32:52 GMT

بھارت کی ناکام خارجہ پالیسی سوالیہ نشان؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کو صدارت سونپنے کے بعد بھارت کو ایک اور سفارتی دھچکا لگا ہے۔ چند روز قبل ہی پاکستان کو یو این کی کائونٹر ٹیررازم کمیٹی کا نائب چیئرمین مقرر کیا گیا تھا، اور اب یہ تازہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات اور عالمی سطح پر مثبت کردار کو بھرپور پزیرائی حاصل ہو رہی ہے، جبکہ بھارت کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا مسلسل ناکام ہو رہا ہے۔ بھارت کے اندر بھی اس پیش رفت نے سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ کانگریس کے رہنماء پون کھیرا نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار پہل گام حملے کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ فوجیوں اور عوام کی قربانیوں کو نظر انداز کیا گیا، جو افسوسناک ہے۔ کانگریس کی رہنما رینیکا چودھری نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو ناکام، غیر موثر اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 151 دورے، 72 ممالک، بے شمار ملاقاتیں، مگر کوئی کامیابی نظر نہیں آتی۔ عوام کو وضاحت دی جائے کہ دہشت گردی کے خلاف بی جے پی کی حکمت عملی کیوں ناکام ہو رہی ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پہل گام حملے میں ملوث چار دہشت گرد اب تک کیوں آزاد ہیں؟ اور انٹیلی جنس کی ناکامی کا ذمے دار کون ہے؟ آپریشن سندور کو عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف قرار دینے کی بھارتی مہم بھی مکمل طور پر ناکام اور غیر موثر ثابت ہوئی۔ پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے کا مودی اور بی جے پی کا بیانیہ نیست نابود ہو گیا۔
گزشتہ کئی سال سے مودی اور بی جے پی نے پاکستان کے خلاف اپنے عوام کو گمراہ کیا اور نفرت کی آگ میں جھونک دیا۔ اگر دہشت گردی کی بات کی جائے تو بھارت میں خود اپنے لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔ مودی کے بھارت میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان انتہائی غیر محفوظ اور خوف میں مبتلا رہتے ہیں، آئے روز بھارت میں انتہا پسند بی جے پی مسلمانوں کیخلاف پرتشددکارروائیوں کے لیے تیار رہتی ہے۔ بھارت میں دہشت گردی کے واقعات چشم دید ثبوت بھی نظر آتے ہیں لیکن بھارت پاکستان پر الزامات تو ضرور لگاتا ہے مگر عالمی قوتوں کے سامنے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو ثابت نہیں کر سکا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دنیا میں سرخرو ہوا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کو صدارت سونپ دی گئی جس کی وجہ سے بھارت میں صف ماتم بچھ گئی اور دہشت گردی کا بیانیہ جل کر راکھ ہو گیا۔
جنگ کے بعد بھارت کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا ہے۔ بھارت اب یہ دہشت گردی کا ناٹک بند کرے اور اپنے عوام کے مسائل حل کرنے پر بھرپور توجہ دے۔ جنگ کے بعد بھارت کی معیشت تباہ ہو گئی ہے۔ بھارت میں بھوک افلاس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام مودی کو دہائیاں دے رہے ہیں۔ عوام میں مایوسی اور اضطراب ہے۔ بھارت کے عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں لیکن آر ایس ایس کے دہشت گردوں کے خوف سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بھارتی عوام پینے کے صاف پانی، لیٹرین کی سہولت سے محروم ہیں۔ اگر پاکستان دہشت گرد ملک ہوتا تو کبھی بھی اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتا۔ دنیا کے دیگر ممالک نے بھی پاکستان کی مخالفت نہیں کی۔ پاکستان عالمی سطح پر روزانہ ایک کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ جبکہ بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیرا نے ناکام خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو آئینہ دکھا دیا۔ انڈین نیشنل کانگریس کے چیئرمین برائے میڈیا اینڈ پبلسٹی ڈپارٹمنٹ پون کھیرا نے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر کامیابیوں کا اعتراف کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے اہم سوال پوچھ لیے۔ پون کھیرا نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ آپ کی خارجہ پالیسی کہاں ہے؟ پاکستان تو عالمی سطح پر کامیابیاں سمیٹ رہا ہے، کویت نے پاکستان پر ویزا پابندیاں ختم کر دیں، کولمبیا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، بتائیں کون سا ملک آج بھارت کے ساتھ کھڑا ہے؟
پون کھیرا کا کہنا تھا بھارت کے لیے یہ افسوسناک لمحہ ہے کہ روس بھی اب پاکستان کے ساتھ معاہدے طے کر رہا ہے، بھارت کے قریبی دوست روس نے پاکستان کے ساتھ 2.

6 بلین کے معاہدے پر دستخط کیے، کویت، ایران اور دیگر خلیجی ممالک بھی پاکستان کے ساتھ معاہدے طے کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور روس، پاکستان کی ساتھ کھڑے ہیں اور امریکا بھی بھارت کو دھمکا رہا ہے۔
انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما کا کہنا تھا مودی کی خارجہ پالیسی یا ملکی سیکورٹی پر سوال اٹھاؤ تو غدار قرار دے دیا جاتا ہے، بھارت کی سفارتی اور خارجہ پالیسی پر سوال اٹھ رہے ہیں جو کہ اٹھنے چاہئیں۔ آپریشن سندور ایک اور ایسا فوجی منصوبہ تھا، جس نے مودی حکومت کو پریشانیوں کی دلدل میں دھکیل دیا۔ آج مودی حکومت نے انڈین جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، لیکن آج مودی کے بھارت میں میڈیا، ادارے اور تعلیم سب اس تنگ نظری کے شکار ہو چکے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں پر ظلم بڑھ گیا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی کو سختی سے کچلا جا رہا ہے۔ آج وہ صحافی، دانشور اور سماجی کارکن جنہیں کبھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا یا تو خاموش کر دیے گئے ہیں یا دباؤ میں آ چکے ہیں۔
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان کے ساتھ خارجہ پالیسی پون کھیرا نے دہشت گردی کے عالمی سطح پر کانگریس کے پاکستان کو پاکستان کی مودی حکومت نے پاکستان بھارت میں بھارت کی بھارت کے بی جے پی کے خلاف کے بعد رہا ہے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار