بھارت میں 25 کروڑ سے زائد مزدوروں اور کسانوں نے نریندر مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں، مزدور قوانین میں ترمیم، بے روزگاری، اور عوامی اثاثوں کی نجکاری کے خلاف ‘بھارت بند’ کے نام سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا۔

اس ہڑتال نے بھارت میں بینکوں، تعمیراتی کام، صنعتی پیداوار، ڈاک خدمات اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم شعبوں کو مکمل طور پر معطل کر دیا۔ لاکھوں افراد نے سڑکوں پر آ کر مرکزی حکومت کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیے: بھارتی معیشت کو بڑاجھٹکا،امریکا کیساتھ تجارت پر 10فیصد ٹیرف عائد ہوگا

یہ احتجاج 10 مرکزی ٹریڈ یونینوں اور کسان تنظیموں کی مدد سے منظم کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے حکومت کے نئے لیبر کوڈز کو ‘مزدور دشمن’ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان نئے قوانین کے تحت کام کے اوقات میں اضافہ کیا گیا ہے، ہڑتال کا حق محدود کر دیا گیا ہے، محنت کشوں کو قانونی تحفظ سے محروم کر دیا گیا ہے، اور ایک غیر منصفانہ پنشن نظام نافذ کیا گیا ہے۔

مودی حکومت کے معاشی ایجنڈے کے خلاف بھی سخت آوازیں بلند ہوئیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت ایک منظم طریقے سے ملک کے عوامی اثاثے، جن میں ریلویز، بینک، کوئلہ صنعت، اور دیگر ادارے شامل ہیں، نجی کارپوریشنوں کے حوالے کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کروڑوں نوجوان بے روزگار ہیں، سرکاری نوکریوں کی لاکھوں آسامیاں خالی پڑی ہیں، اور محنت کش مستقل روزگار، منصفانہ اجرت، اور مہنگائی کے خلاف تحفظ کے لیے ترس رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کیخلاف لاکھوں مزدور سڑکوں پر آگئے، بھارت بھر میں ہڑتال

احتجاج کے دوران ایک ہولناک مثال آسام کے ضلع دھوبری سے سامنے آئی، جہاں عدانی گروپ کے 3,500 میگاواٹ پاور پلانٹ کے لیے 2 دو ہزار سے زائد مسلم خاندانوں کے گھر بلڈوز کر دیے گئے۔ مظاہرین نے اسے ‘کارپوریٹ ریاستی جبر’ اور ‘فرقہ وارانہ بے دخلی’ کی ایک افسوسناک مثال قرار دیا۔

‘بھارت بند’ کا سب سے زیادہ اثر کیرالہ، مغربی بنگال، اوڈیشہ اور بہار میں دیکھا گیا۔ ان ریاستوں میں ریل کی پٹریاں بند کر دی گئیں، بازار مکمل طور پر بند رہے، سڑکیں سنسان ہو گئیں اور لاکھوں افراد نے صنعتی و خدماتی اداروں میں کام بند کر دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

baharat band 2025 بھارت بند 2025 حقوق مزدور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بند 2025 مودی حکومت بھارت بند کے خلاف کر دیا گیا ہے

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد