ایرانی فوج سے منسلک عمارت میں زوردار دھماکہ،ایک اور نامور ایرانی جنرل مبینہ طور پر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
تہران (اوصاف نیوز)ایرانی شہرتہران کے مغربی علاقے چِتگَر جھیل کے قریب واقع بلند و بالا رہائشی عمارت، جسے جوڈیشری ٹاور کہا جاتا ہے میں زوردار دھماکہ ، دھماکے سے قریبی عمارتیں بھی لرزگئیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق دھماکے کے باعث عمارت کے ایک اپارٹمنٹ کو شدید نقصان پہنچا جو کہ ایرانی مسلح افواج سے منسلک بتایا جارہا ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رپورٹس کے مطابق یہ رہائشی کمپلیکس ایرانی مسلح افواج سے منسلک ہے، غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں ایرانی مسلح افواج کے ایک اہم جنرل کے جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کی وجہ مبینہ طور پر ڈرون حملہ ہو سکتی ہے تاہم ایرانی حکام نے تاحال اس کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی۔ مقامی میڈیا کی بعض رپورٹس میں اسے گیس لیکیج کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مون سون طوفانی بارشیں، فضائی آپریشن متاثر، کئی پروازیں منسوخ، درجنوں تاخیر کا شکار
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔