Islam Times:
2026-06-03@08:44:28 GMT

ہم نے جارحیت کا پوری طاقت سے جواب دیا، ایران

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

ہم نے جارحیت کا پوری طاقت سے جواب دیا، ایران

قطر کے نائب وزیراعظم اور مشیر برائے دفاعی امور خالد بن محمد العطیہ کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو میں ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل سید عید الرحیم موسوی نے کہا ہے کہ  ایران کیخلاف جارحیت کی مذمت پر قطری حکومت کے گرانقدر موقف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع کے مشیر کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا ہے کہ ایران امریکہ اور صیہونی حکومت کی غنڈہ گردی کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہے۔ قطر کے نائب وزیراعظم اور مشیر برائے دفاعی امور خالد بن محمد العطیہ کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو میں ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل سید عید الرحیم موسوی نے کہا ہے کہ  ایران کیخلاف جارحیت کی مذمت پر قطری حکومت کے گرانقدر موقف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ میجر جنرل موسوی نے مزید کہا کہ قطر ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے مظلوم فلسطینی عوام کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کی ہے۔ مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے مزید کہا کہ مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ میں ایران کی حقانیت ثابت ہوگئی، دنیا پر یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کسی بھی بین الاقوامی قانون یا اصول کی پاسداری نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس 12 روزہ جنگ میں صیہونی حکومت کی مدد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے لئے صیہونی حکومت کی کارروائیوں کو مکمل انٹیلی جنس اور لاجسٹک مدد فراہم کرنے میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ تعاون کیا۔ میجر جنرل موسوی نے زور دیکر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے پوری طاقت کے ساتھ غنڈہ گردی کا مقابلہ کیا اور جارحیت کا پوری طاقت سے جواب دیا۔ خالد بن محمد العطیہ نے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ قطر نے شروع ہی سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت کی مذمت کی ہے اور فریقین سے کہا ہے کہ قطر اپنی فضائی حدود اور سرزمین کو جنگ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور ہم نے ہمیشہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی حکومت کی مسلح افواج کے گفتگو میں پوری طاقت کہا ہے کہ موسوی نے ایران کی کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا