ہم نے جارحیت کا پوری طاقت سے جواب دیا، ایران
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
قطر کے نائب وزیراعظم اور مشیر برائے دفاعی امور خالد بن محمد العطیہ کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو میں ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل سید عید الرحیم موسوی نے کہا ہے کہ ایران کیخلاف جارحیت کی مذمت پر قطری حکومت کے گرانقدر موقف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع کے مشیر کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا ہے کہ ایران امریکہ اور صیہونی حکومت کی غنڈہ گردی کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہے۔ قطر کے نائب وزیراعظم اور مشیر برائے دفاعی امور خالد بن محمد العطیہ کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو میں ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل سید عید الرحیم موسوی نے کہا ہے کہ ایران کیخلاف جارحیت کی مذمت پر قطری حکومت کے گرانقدر موقف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ میجر جنرل موسوی نے مزید کہا کہ قطر ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے مظلوم فلسطینی عوام کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کی ہے۔ مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے مزید کہا کہ مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ میں ایران کی حقانیت ثابت ہوگئی، دنیا پر یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کسی بھی بین الاقوامی قانون یا اصول کی پاسداری نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس 12 روزہ جنگ میں صیہونی حکومت کی مدد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے لئے صیہونی حکومت کی کارروائیوں کو مکمل انٹیلی جنس اور لاجسٹک مدد فراہم کرنے میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ تعاون کیا۔ میجر جنرل موسوی نے زور دیکر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے پوری طاقت کے ساتھ غنڈہ گردی کا مقابلہ کیا اور جارحیت کا پوری طاقت سے جواب دیا۔ خالد بن محمد العطیہ نے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ قطر نے شروع ہی سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت کی مذمت کی ہے اور فریقین سے کہا ہے کہ قطر اپنی فضائی حدود اور سرزمین کو جنگ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور ہم نے ہمیشہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صیہونی حکومت کی مسلح افواج کے گفتگو میں پوری طاقت کہا ہے کہ موسوی نے ایران کی کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔