زمبابوے کے شہر بولاوے میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ (6-10 جولائی) میں جنوبی افریقہ نے اپنی پہلی اننگز میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 626 رنز پر 5 وکٹیں گنوانے کے بعد اننگز ڈیکلیئر کردی۔ کپتان وِیاان ملڈر نے ناقابل شکست 367 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یادگار اننگز میں شمار ہوتی ہے۔

ملڈر کی شاندار اننگز نے برائن لارا کے 21 سال پرانے عالمی ریکارڈ 400 رنز کو توڑنے کا نادر موقع فراہم کیا تھا، لیکن ٹیم کی اننگز جلد ڈیکلیئر کروانے کی وجہ سے وہ ریکارڈ توڑنے سے محروم رہ گئے۔

ماہرین اور شائقین کا کہنا ہے کہ اگر جنوبی افریقہ نے ملڈر کو موقع دیا ہوتا تو یہ عالمی ریکارڈ ٹوٹ سکتا تھا، تاہم اننگز کے ڈیکلیئر ہونے سے یہ سنہری موقع ضائع ہوگیا۔

یاد رہے کہ برائن لارا نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز 10 اپریل 2004 کو انگلینڈ کے خلاف اینٹیگوا ریکریئیشن گراؤنڈ، سینٹ جانز میں کھیلی، جب انہوں نے ناقابلِ شکست 400 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ یہ کارنامہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میچ میں سرانجام دیا گیا۔

مزید پڑھیں: آکاش دیپ نے انگلینڈ میں کس بھارتی بولر کا 38 سالہ ریکارڈ توڑ دیا؟

لارا اس میچ میں تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے اور 2 دن سے زائد وقت تک کریز پر موجود رہے، انہوں نے 582 گیندوں پر 43 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے یہ شاندار اننگز مکمل کی۔ ویسٹ انڈیز نے لارا کی قیادت میں پہلی اننگز 751 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پر ڈیکلئیر کی، جبکہ میچ آخرکار ڈرا ہو گیا۔

اس اننگز کی خاص بات یہ بھی تھی کہ یہ ریکارڈ اسی میدان پر بنایا گیا جہاں برائن لارا نے 10 سال قبل 1994 میں 375 رنز بنا کر اُس وقت کا سب سے بڑا انفرادی اسکور قائم کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لارا نے یہ کارنامہ ایسے وقت میں انجام دیا جب آسٹریلوی بلے باز میتھیو ہیڈن نے کچھ ہی دن قبل 380 رنز بنا کر ان کا پرانا ریکارڈ توڑا تھا۔

برائن لارا اب تک کے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 2 مرتبہ سب سے بڑی انفرادی اننگز کھیلنے کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔ ان کی 400 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز آج بھی ٹیسٹ کرکٹ میں بیٹنگ کے عظیم ترین مظاہر میں شمار کی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

400 رنز ناٹ آؤٹ انگلینڈ برائن لارا ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ ٹیسٹ میچ جنوبی افریقہ زمبابوے ناقابل شکست 367 وِیاان ملڈر ویسٹ انڈیز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 400 رنز ناٹ ا ؤٹ انگلینڈ برائن لارا ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ ٹیسٹ میچ جنوبی افریقہ زمبابوے ویسٹ انڈیز برائن لارا ٹیسٹ کرکٹ

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی