غزہ میں صیہونی بربریت جاری، مزید 85 افراد شہید
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امداد کے منتظر مزید 17 افراد شہید اور 53 زخمی ہوئے۔ یوں روزی روٹی کی تلاش میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 805 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 5252 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ میں آج صیہونی بربریت میں 85 افراد شہید ہو گئے ہیں جن میں 30 افراد ایسے تھے جو امداد کے منتظر تھے اور وہ صیہونی فوج کی بربریت کا نشانہ بن گئے۔ المیادین کی رپورٹ کے مطابق قابض فوج نے نسل کشی کی جنگ کے دوران غزہ کی پٹی میں صبح سے اب تک 85 فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔ قابض فوج کی نسل کشی کی جنگ بدستور جاری ہے۔ غزہ کی پٹی کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 59 شہداء (جن میں سے 9 کو ملبے سے نکالا گیا) اور 208 زخمی اسپتالوں میں پہنچائے گئے ہیں۔ وزارت نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امداد کے منتظر مزید 17 افراد شہید اور 53 زخمی ہوئے۔ یوں روزی روٹی کی تلاش میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 805 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 5252 سے تجاوز کر چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افراد شہید کے دوران
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔